Showing posts with label عیش دہلوی. Show all posts
Showing posts with label عیش دہلوی. Show all posts

Friday, 11 March 2022

کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے

 کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے

طعنے سہنے پڑے ہمیں سب کے

بھولنا مت بتوں کی یاری پر

ہیں یہ بد کیش اپنے مطلب کے

قیس و فرہاد چل بسے افسوس

تھے وہ کمبخت اپنے مشرب کے

Monday, 13 December 2021

جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتا

 جس دل میں تِری زلف کا سودا نہیں ہوتا

وہ دل نہیں ہوتا، نہیں ہوتا، نہیں ہوتا

عاشق جسے کہتے ہیں وہ پیدا نہیں ہوتا

اور ہوئے بھی بالفرض تو مجھ سا نہیں ہوتا

جو کشتۂ تیغ نگہ یار ہیں ان پر

کچھ کارگر اعجاز مسیحا نہیں ہوتا

Friday, 10 December 2021

عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیا

 عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تُو آزار کیا

دشمنِ جاں ان کا تھوڑا ہے دلِ بیمار کیا

رشک آوے کیوں نہ مجھ کو دیکھنا اس کی طرف

ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے روزنِ دیوار کیا

آہ نے تو خیمۂ گردوں کو پھونکا دیکھیں اب

رنگ لاتے ہیں ہمارے دیدۂ خوں بار کیا

Thursday, 9 December 2021

میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں

 میرا شکوہ تِری محفل میں عدُو کرتے ہیں

اس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں

مشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں

ہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں

جاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق

چاک دل تارِ نظر سے جو رفو کرتے ہیں

Wednesday, 2 December 2020

تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے

 تُو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے

اپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بیزار رہے

زخم دل چھیلے کبھی، اور کبھی زخمِ جگر

ناخنِ دستِ جنوں کب مرے بیکار رہے

ان جفاؤں کا مزہ تم کو چکھا دیویں گے

ہاں اگر زندہ ہم اے چرخِ جفاکار رہے