کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے
طعنے سہنے پڑے ہمیں سب کے
بھولنا مت بتوں کی یاری پر
ہیں یہ بد کیش اپنے مطلب کے
قیس و فرہاد چل بسے افسوس
تھے وہ کمبخت اپنے مشرب کے
کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے
طعنے سہنے پڑے ہمیں سب کے
بھولنا مت بتوں کی یاری پر
ہیں یہ بد کیش اپنے مطلب کے
قیس و فرہاد چل بسے افسوس
تھے وہ کمبخت اپنے مشرب کے
جس دل میں تِری زلف کا سودا نہیں ہوتا
وہ دل نہیں ہوتا، نہیں ہوتا، نہیں ہوتا
عاشق جسے کہتے ہیں وہ پیدا نہیں ہوتا
اور ہوئے بھی بالفرض تو مجھ سا نہیں ہوتا
جو کشتۂ تیغ نگہ یار ہیں ان پر
کچھ کارگر اعجاز مسیحا نہیں ہوتا
عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تُو آزار کیا
دشمنِ جاں ان کا تھوڑا ہے دلِ بیمار کیا
رشک آوے کیوں نہ مجھ کو دیکھنا اس کی طرف
ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے روزنِ دیوار کیا
آہ نے تو خیمۂ گردوں کو پھونکا دیکھیں اب
رنگ لاتے ہیں ہمارے دیدۂ خوں بار کیا
میرا شکوہ تِری محفل میں عدُو کرتے ہیں
اس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں
مشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں
ہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں
جاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق
چاک دل تارِ نظر سے جو رفو کرتے ہیں
تُو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے
اپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بیزار رہے
زخم دل چھیلے کبھی، اور کبھی زخمِ جگر
ناخنِ دستِ جنوں کب مرے بیکار رہے
ان جفاؤں کا مزہ تم کو چکھا دیویں گے
ہاں اگر زندہ ہم اے چرخِ جفاکار رہے