Showing posts with label کیف صدیقی. Show all posts
Showing posts with label کیف صدیقی. Show all posts

Friday, 31 July 2026

خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے

 یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے

لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے

میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی

خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے

یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح

دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے

Saturday, 17 February 2024

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے

 دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے

سنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے

ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میں

عصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے

وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا

جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے

Monday, 29 January 2024

کیا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈوبی ہے

 کیا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈُوبی ہے

رنگ بدلتی دُنیا میں جو یک رنگی ہے

منظر منظر ڈھلتا جاتا ہے پِیلا پن

چہرہ چہرہ سبز اُداسی پھیل رہی ہے

پیلی سانسیں بُھوری آنکھیں سُرخ نگاہیں

عنابی احساس طبیعت تاریخی ہے

Monday, 13 December 2021

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

شام کی آغوش میں سُورج بھی تھک کر سو گیا

آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاں

چند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا

یہ سکوتِ شام، یہ ہنگامۂ ذہنِ بشر

رُوح ہے بیدار لیکن جسم تھک کر سو گیا

Sunday, 31 October 2021

سوچتا ہوں وقت کی گردن پکڑ کر کھینچ لوں

سورج کا آتش کدہ


سوچتا ہوں 

وقت کی گردن پکڑ کر

ریشمی اسکارف کا پھندا لگا کر کھینچ لوں 

اور اتنی زور سے چیخوں

زمیں سے آسماں تک 

صرف میری چیخ ہی کا شور گونجے