یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے
لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے
یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح
دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے
یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے
لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے
یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح
دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
سنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے
ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میں
عصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے
وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا
جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے
کیا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈُوبی ہے
رنگ بدلتی دُنیا میں جو یک رنگی ہے
منظر منظر ڈھلتا جاتا ہے پِیلا پن
چہرہ چہرہ سبز اُداسی پھیل رہی ہے
پیلی سانسیں بُھوری آنکھیں سُرخ نگاہیں
عنابی احساس طبیعت تاریخی ہے
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
شام کی آغوش میں سُورج بھی تھک کر سو گیا
آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاں
چند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا
یہ سکوتِ شام، یہ ہنگامۂ ذہنِ بشر
رُوح ہے بیدار لیکن جسم تھک کر سو گیا
سورج کا آتش کدہ
سوچتا ہوں
وقت کی گردن پکڑ کر
ریشمی اسکارف کا پھندا لگا کر کھینچ لوں
اور اتنی زور سے چیخوں
زمیں سے آسماں تک
صرف میری چیخ ہی کا شور گونجے