Showing posts with label مسرور جوہر. Show all posts
Showing posts with label مسرور جوہر. Show all posts

Monday, 8 December 2025

دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا

 دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا

کر گئی ہے بند آج ایک ایک دروازہ ہوا

کون سی آنکھوں سے دیکھوں زندگی کی بے بسی

چہرہ چہرہ مل رہی ہے موت کا غازہ ہوا

قہر پیہم ڈھا رہی ہے خوشبوؤں کے شہر میں

دیکھنا تم ایک دن بھگتے گی خمیازہ ہوا

Wednesday, 8 October 2025

افلاس میں بھی رنگ بدن کا نہیں اترا

 افلاس میں بھی رنگ بدن کا نہیں اُترا

فاقے بھی کئے ہم نے تو چہرہ نہیں اترا

اک جھونک ہی میں چھو لیا قدموں نے زمیں کو

افلاک سے وہ زینہ بہ زینہ نہیں اترا

پیوست زمیں ہو گئیں سب عظمتیں لیکن

جسموں سے تکبر کا لبادہ نہیں اترا

Sunday, 5 October 2025

یہ عالم اب دھویں کا کارخانہ لگ رہا ہے

 یہ عالم اب دھویں کا کارخانہ لگ رہا ہے

براہ راست سانسوں پر نشانہ لگ رہا ہے

ہمارے عہد کی حیوانیت کا سرخ قصہ

قرون جاہلیت کا فسانہ لگ رہا ہے

چراغوں کو مہیا کیجئے سورج پناہی

ہواؤں کا رویہ جارحانہ لگ رہا ہے

Saturday, 4 October 2025

صبح کے اجلے جزیروں پہ بھی طاری ہوئی شام

 صبح کے اجلے جزیروں پہ بھی طاری ہوئی شام

سہمے سہمے ہیں مناظر کہ شکاری ہوئی شام

ہر طرف روشنی و رنگ کا رقص پیہم

یاد آتی ہے تِرے ساتھ گزاری ہوئی شام

جم گئیں گہری اداسی کی تہیں پلکوں پر

اوڑھ کے تیرا خیال اور بھی بھاری ہوئی شام