دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا
کر گئی ہے بند آج ایک ایک دروازہ ہوا
کون سی آنکھوں سے دیکھوں زندگی کی بے بسی
چہرہ چہرہ مل رہی ہے موت کا غازہ ہوا
قہر پیہم ڈھا رہی ہے خوشبوؤں کے شہر میں
دیکھنا تم ایک دن بھگتے گی خمیازہ ہوا
دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا
کر گئی ہے بند آج ایک ایک دروازہ ہوا
کون سی آنکھوں سے دیکھوں زندگی کی بے بسی
چہرہ چہرہ مل رہی ہے موت کا غازہ ہوا
قہر پیہم ڈھا رہی ہے خوشبوؤں کے شہر میں
دیکھنا تم ایک دن بھگتے گی خمیازہ ہوا
افلاس میں بھی رنگ بدن کا نہیں اُترا
فاقے بھی کئے ہم نے تو چہرہ نہیں اترا
اک جھونک ہی میں چھو لیا قدموں نے زمیں کو
افلاک سے وہ زینہ بہ زینہ نہیں اترا
پیوست زمیں ہو گئیں سب عظمتیں لیکن
جسموں سے تکبر کا لبادہ نہیں اترا
یہ عالم اب دھویں کا کارخانہ لگ رہا ہے
براہ راست سانسوں پر نشانہ لگ رہا ہے
ہمارے عہد کی حیوانیت کا سرخ قصہ
قرون جاہلیت کا فسانہ لگ رہا ہے
چراغوں کو مہیا کیجئے سورج پناہی
ہواؤں کا رویہ جارحانہ لگ رہا ہے
صبح کے اجلے جزیروں پہ بھی طاری ہوئی شام
سہمے سہمے ہیں مناظر کہ شکاری ہوئی شام
ہر طرف روشنی و رنگ کا رقص پیہم
یاد آتی ہے تِرے ساتھ گزاری ہوئی شام
جم گئیں گہری اداسی کی تہیں پلکوں پر
اوڑھ کے تیرا خیال اور بھی بھاری ہوئی شام