نیک اعمال کے درجوں کو بڑھا کر دیکھو
ایک گِرتے ہوئے بچّے کو اٹھا کر دیکھو
وحشتیں آ کے بچھا لیتی ہیں اپنا بستر
گھر پہ کچھ دن کے لیے تالا لگا کر دیکھو
آپ کے فکر کی پرواز کہاں تک پہونچی
میر کے مصرعے پہ اِک مصرع لگا کر دیکھو
نیک اعمال کے درجوں کو بڑھا کر دیکھو
ایک گِرتے ہوئے بچّے کو اٹھا کر دیکھو
وحشتیں آ کے بچھا لیتی ہیں اپنا بستر
گھر پہ کچھ دن کے لیے تالا لگا کر دیکھو
آپ کے فکر کی پرواز کہاں تک پہونچی
میر کے مصرعے پہ اِک مصرع لگا کر دیکھو
حسن تجھ کو اگر با صفا چاہیۓ
خوبصورت کوئی آئینہ چاہیۓ
مجھ سے کیوں پوچھتا ہے کہ کیا چاہیۓ
میں نے کی ہے وفا تو وفا چاہیۓ
دل کی جانب نظر کر رہی ہے طواف
کعبے دل کو میرے خدا چاہیے
زندگی کو اک کہانی چاہیۓ
خشک دریا کو روانی چاہیۓ
دل کو اک خوابوں کی رانی چاہیۓ
سرحدوں کی نگہبانی چاہیۓ
چوم لے بڑھ کر مری تحریر کو
میرے لفظوں کو معانی چاہیۓ
بھر گئی فرقہ پرستوں سے یہ دنیا کیسے
رام رحمان میں ہونے لگا جھگڑا کیسے
ہیر پر کچھ نہیں تیشے پہ سوال اٹھے گا
عشق میں مر گیا رانجھا کوئی پیاسا کیسے
میرے بھائی نے جلا ڈالا ہے اب کے مجھ کو
چاہِ کنعاں سے مِرا نکلے گا کپڑا کیسے
اپنی رنگین کوئی شام نہیں کر سکتا
چھوڑ کر میں تجھے آرام نہیں کر سکتا
میں نے اک عمر گنوا دی ہے غزل کہنے میں
میرے جیسا تو کوئی کام نہیں کر سکتا
تیری آنکھوں کا لیا کرتا ہوں بوسا ہر دن
مجھ کو مدہوش کوئی جام نہیں کر سکتا
تمہارے عشق کی سینے میں چاہ ہوتے ہوئے
میں خود کو دیکھ رہا ہوں تباہ ہوتے ہوئے
تمہارے دل پہ مروت کے تیشے رکھ رکھ کر
میں دیکھتا ہوں چٹانوں میں راہ ہوتے ہوئے
حسین چیزوں پہ لازم ہے احتیاط بہت
گلاب دیکھے ہیں ہم نے سیاہ ہوتے ہوئے
دل کو اس دل سے ملانے کی ضرورت کیا تھی
خود کو اس طرح مٹانے کی ضرورت کیا تھی
لوگ جس موڑ پہ گرتے ہی بکھر جاتے ہیں
خود کو اس موڑ پہ لانے کی ضرورت کیا تھی
جن چراغوں کو ہواؤں سے بڑی تھی رغبت
ان چراغوں کو بجھانے کی ضرورت کیا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام و منقبت
زندہ باد شہ دینﷺ زندہ باد
مچل کے بولے یہ روح الامین زندہ باد
زندہ باد شہ دينﷺ زندہ باد
*
زمیں سے عرش بریں پر جنہیں بلایا ہے
خدا نے نور سے اپنے اُنہیں بنایا ہے
ظلم ہوتے ہیں یوں ہی ہم پہ برابر ہوں گے
آئینے ہوں گے جہاں پر وہیں پتھر ہوں گے
فتح کر لیں گے تِرا دل تِرے اندر ہوں گے
ورنہ ہم نے بھی قسم کھائی بے گھر ہوں گے
ایک ٹیبل پہ ہو اک چائے🍵 اکیلے ہم تم
سوچئے کتنے حسیں صبح کے منظر ہوں گے
طوطئ ہند حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ کے کلام پر تضمین
کوئی دریا نہ ساحل بود شب جائے کہ من بودم
مصیبت میں گھرا دل بود شب جائے کہ من بودم
نہ خنجر تھا نہ قاتل بود شب جائے کہ من بودم
*نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم*
*بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم*
عشق تیری دنیا میں کیا سے کیا نہیں ہوتا
جس کو آئینہ سمجھے آئینہ نہیں ہوتا
مسئلہ ضرورت کا توڑتا ہے سب رشتہ
آدمی محبت میں بے وفا نہیں ہوتا
سب سے ملنے جلنے میں دل کے ہو گئے ٹکڑے
اب کسی سے ملنے کا حوصلہ نہیں ہوتا
کبھی صحرا کبھی طوفانی منظر رقص کرتے ہیں
مِری آنکھوں کے قطروں میں سمندر رقص کرتے ہیں
جن آنکھوں میں کبھی ہم دیکھتے تھے اپنے چہرے کو
انہیں آنکھوں میں اب دیکھا ہے خنجر رقص کرتے ہیں
تمہارے بن کبھی کانٹے کبھی تلوار بنتے ہیں
تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو بستر رقص کرتے ہیں
تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے
بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے
خودکشی پہ آمادہ ہو گئے ہیں سب جگنو
کھل گئے چراغوں سے روشنی کے دروازے
اب زمین لگتی ہے مانگ ایک بیوہ کی
بند ہو گئے شاید چاندنی کے دروازے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ایماں ہے ہمارا ایماں ہے ہمارا
کرتا ہے مدح آپ کی قرآن کا پارہ
حاصل ہے فرشتوں کو جو یہ صور کا صدقہ
موسیٰ کو جو حاصل ہے سرِ طور کا صدقہ
یوسف کو کہاں ملتا رخِ حور کا صدقہ
رنج ہمیں کیونکر اب ہو گا جھوٹوں کی رسوائی کا
ساحل سے کچھ ربط نہیں ہے دریا کی گہرائی کا
بچپن کی کچھ یادوں کو دیواروں میں مت دفناؤ
لے لو میرے بھائی! سارا حصہ تم انگنائی کا
کھیل نہ سمجھو تنہا رہنا عشق کرو تب جانو گے
صدیوں سے بھاری لگتا ہے اک لمحہ تنہائی کا
تاثیر نہیں لگتی کسی زہر میں ہم کو
مر جانا تھا اے یار! کسی قہر میں ہم
دشمن کے سمندر سے نکل آئے ہیں کب کے
اب اپنے ڈوبوتے ہیں یہاں نہر میں ہم کو
خوابوں کے جنازے لیے پھرتے ہیں وہاں ہم
کاندھے بھی میسر نہیں جس شہر میں ہم کو
شدت تشنہ لبی میں پوچھ مت کیا کیا لگا
جس کو تو قطرہ سمجھتا تھا مجھے دریا لگا
سچ کے ہم کل بھی امیں تھے آج بھی ہم ہیں امیں
آئینوں کو پتھروں سے جنگ کب اچھا لگا
حادٿوں کی زد سے غیروں نے بچایا جب مجھے
گو کہ ہر چہرہ تھا بے گانہ مگر اپنا لگا
حد سے آگے ہم گزرنے کے لیے تیار ہیں
زندگی بس کہہ دے مرنے کے لیے تیار ہیں
میرے سورج کو کسی نے کر دیا ہے قتل کیا
سب اندھیرے مجھ کو ڈسنے کے لیے تیار ہیں
کوئی ہم سے بھی محبت آج کر کے دیکھ لے
آنکھ میں اشکوں کو بھرنے کے لیے تیار ہیں
میرا دعویٰ ہے پارسا ہوتے
تم اگر غم سے آشنا ہوتے
بارشِ آسماں دہل جاتی
میرے آنسو جو بے ردا ہوتے
کون ڈھوتا تیرے خیالوں کو
سوچ گر ہم بھی بے وفا ہوتے
چھو اگر لیں گے تیرے لب آئینہ ہوجاؤں گا
ورنہ پتھر ہوں کسی دن حادثہ ہو جاؤں گا
میں ابھی سے کیا بتاؤں لذتِ زخمِ جگر
دھیرے دھیرے عشق تجھ سے آشنا ہو جاؤں گا
زندگی کو چاہیے مدِ مقابل اک عدو
گر فنا ہو جائے گا، تو میں فنا ہو جاؤں گا