Showing posts with label دل سکندر پوری. Show all posts
Showing posts with label دل سکندر پوری. Show all posts

Friday, 13 December 2024

نیک اعمال کے درجوں کو بڑھا کر دیکھو

 نیک اعمال کے درجوں کو بڑھا کر دیکھو 

ایک گِرتے ہوئے بچّے کو اٹھا کر دیکھو

وحشتیں آ کے بچھا لیتی ہیں اپنا بستر

گھر پہ کچھ دن کے لیے تالا لگا کر دیکھو

آپ کے فکر کی پرواز کہاں تک پہونچی

میر کے مصرعے پہ اِک مصرع لگا کر دیکھو

Sunday, 19 February 2023

حسن تجھ کو اگر با صفا چاہیۓ

 حسن تجھ کو اگر با صفا چاہیۓ

خوبصورت کوئی آئینہ چاہیۓ

مجھ سے کیوں پوچھتا ہے کہ کیا چاہیۓ

میں نے کی ہے وفا تو وفا چاہیۓ

دل کی جانب نظر کر رہی ہے طواف 

کعبے دل کو میرے خدا چاہیے

Friday, 10 February 2023

زندگی کو اک کہانی چاہیۓ

 زندگی کو اک کہانی چاہیۓ

خشک دریا کو روانی چاہیۓ

دل کو اک خوابوں کی رانی چاہیۓ

سرحدوں کی نگہبانی چاہیۓ

چوم لے بڑھ کر مری تحریر کو

میرے لفظوں کو معانی چاہیۓ

Monday, 26 December 2022

بھر گئی فرقہ پرستوں سے یہ دنیا کیسے

 بھر گئی فرقہ پرستوں سے یہ دنیا کیسے

رام رحمان میں ہونے لگا جھگڑا کیسے

ہیر پر کچھ نہیں تیشے پہ سوال اٹھے گا

عشق میں مر گیا رانجھا کوئی پیاسا کیسے

میرے بھائی نے جلا ڈالا ہے اب کے مجھ کو

چاہِ کنعاں سے مِرا نکلے گا کپڑا کیسے

Friday, 4 November 2022

اپنی رنگین کوئی شام نہیں کر سکتا

 اپنی رنگین کوئی شام نہیں کر سکتا 

چھوڑ کر میں تجھے آرام نہیں کر سکتا 

میں نے اک عمر گنوا دی ہے غزل کہنے میں

میرے جیسا تو کوئی کام نہیں کر سکتا 

تیری آنکھوں کا لیا کرتا ہوں بوسا ہر دن 

مجھ کو مدہوش کوئی جام نہیں کر سکتا 

Friday, 28 October 2022

تمہارے عشق کی سینے میں چاہ ہوتے ہوئے

 تمہارے عشق کی سینے میں چاہ ہوتے ہوئے

میں خود کو دیکھ رہا ہوں تباہ ہوتے ہوئے

تمہارے دل پہ مروت کے تیشے رکھ رکھ کر

میں دیکھتا ہوں چٹانوں میں راہ ہوتے ہوئے

حسین چیزوں پہ لازم ہے احتیاط بہت

گلاب دیکھے ہیں ہم نے سیاہ ہوتے ہوئے

Monday, 17 October 2022

دل کو اس دل سے ملانے کی ضرورت کیا تھی

 دل کو اس دل سے ملانے کی ضرورت کیا تھی 

خود کو اس طرح مٹانے کی ضرورت کیا تھی 

لوگ جس موڑ پہ گرتے ہی بکھر جاتے ہیں 

خود کو اس موڑ پہ لانے کی ضرورت کیا تھی

جن چراغوں کو ہواؤں سے بڑی تھی رغبت 

ان چراغوں کو بجھانے کی ضرورت کیا ہے

Tuesday, 20 September 2022

زندہ باد شہ دین زندہ باد

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام و منقبت


زندہ باد شہ دینﷺ زندہ باد

مچل کے بولے یہ روح الامین زندہ باد

زندہ باد شہ دينﷺ زندہ باد

*

زمیں سے عرش  بریں پر جنہیں بلایا ہے 

خدا نے نور سے اپنے اُنہیں بنایا ہے 

Monday, 18 July 2022

ظلم ہوتے ہیں یوں ہی ہم پہ برابر ہوں گے

 ظلم ہوتے ہیں یوں ہی ہم پہ برابر ہوں گے

آئینے ہوں گے جہاں پر وہیں پتھر ہوں گے

فتح کر لیں گے تِرا دل تِرے اندر ہوں گے 

ورنہ ہم نے بھی قسم کھائی بے گھر ہوں گے

ایک ٹیبل پہ ہو اک چائے🍵 اکیلے ہم تم 

سوچئے کتنے حسیں صبح کے منظر ہوں گے 

Monday, 6 June 2022

کوئی دریا نہ ساحل بود شب جائے کہ من بودم

 طوطئ ہند حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ کے کلام پر تضمین


کوئی دریا نہ ساحل بود شب جائے کہ من بودم

مصیبت میں گھرا دل بود شب جائے کہ من بودم 

نہ خنجر تھا نہ قاتل بود شب جائے کہ من بودم

*نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم* 

*بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم*

Saturday, 19 March 2022

عشق تیری دنیا میں کیا سے کیا نہیں ہوتا

 عشق تیری دنیا میں کیا سے کیا نہیں ہوتا

جس کو آئینہ سمجھے آئینہ نہیں ہوتا

مسئلہ ضرورت کا توڑتا ہے سب رشتہ 

آدمی محبت میں بے وفا نہیں ہوتا

سب سے ملنے جلنے میں دل کے ہو گئے ٹکڑے

اب کسی سے ملنے کا حوصلہ نہیں ہوتا

Saturday, 8 January 2022

کبھی صحرا کبھی طوفانی منظر رقص کرتے ہیں

 کبھی صحرا کبھی طوفانی منظر رقص کرتے ہیں 

مِری آنکھوں کے قطروں میں سمندر رقص کرتے  ہیں

جن آنکھوں میں کبھی ہم دیکھتے تھے اپنے چہرے کو 

انہیں آنکھوں میں اب دیکھا ہے خنجر رقص کرتے ہیں

تمہارے بن کبھی کانٹے کبھی تلوار بنتے ہیں 

تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو بستر رقص کرتے ہیں 

Wednesday, 10 November 2021

تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے

 تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے

بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے

خودکشی پہ آمادہ ہو گئے ہیں سب جگنو 

کھل گئے چراغوں سے روشنی کے دروازے

اب زمین لگتی ہے مانگ ایک بیوہ کی

بند ہو گئے شاید چاندنی کے دروازے

Wednesday, 20 October 2021

ایماں ہے ہمارا ایماں ہے ہمارا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ایماں ہے ہمارا ایماں ہے ہمارا 

کرتا ہے مدح آپ کی قرآن کا پارہ


حاصل ہے فرشتوں کو جو یہ صور کا صدقہ

موسیٰ کو جو حاصل ہے سرِ طور کا صدقہ 

یوسف کو کہاں ملتا رخِ حور کا صدقہ

Sunday, 10 October 2021

رنج ہمیں کیونکر اب ہو گا جھوٹوں کی رسوائی کا

 رنج ہمیں کیونکر اب ہو گا جھوٹوں کی رسوائی کا 

ساحل سے کچھ ربط نہیں ہے دریا کی گہرائی کا

بچپن کی کچھ یادوں کو دیواروں میں  مت دفناؤ

لے لو میرے بھائی! سارا حصہ  تم انگنائی کا

کھیل نہ سمجھو تنہا رہنا عشق کرو تب جانو گے

صدیوں سے بھاری لگتا ہے اک لمحہ تنہائی کا

Monday, 30 August 2021

تاثیر نہیں لگتی کسی زہر میں ہم کو

 تاثیر نہیں لگتی کسی زہر میں ہم کو

مر جانا تھا اے یار! کسی قہر میں ہم

دشمن کے سمندر سے نکل آئے ہیں کب کے

اب اپنے ڈوبوتے ہیں یہاں نہر میں ہم کو

خوابوں کے جنازے لیے پھرتے ہیں وہاں ہم

کاندھے بھی میسر نہیں جس شہر میں ہم کو

Sunday, 22 August 2021

شدت تشنہ لبی میں پوچھ مت کیا کیا لگا

 شدت تشنہ لبی میں پوچھ مت کیا کیا لگا

جس کو تو قطرہ سمجھتا تھا مجھے دریا لگا

سچ کے ہم کل بھی امیں تھے آج بھی ہم ہیں امیں

آئینوں کو پتھروں سے جنگ کب اچھا لگا

حادٿوں کی زد سے غیروں نے بچایا جب مجھے

گو کہ ہر چہرہ تھا بے گانہ مگر اپنا لگا 

Friday, 6 August 2021

حد سے آگے ہم گزرنے کے لیے تیار ہیں

 حد سے آگے ہم گزرنے کے لیے تیار ہیں

زندگی بس کہہ دے مرنے کے لیے تیار ہیں 

میرے سورج کو کسی نے کر دیا ہے قتل کیا

سب اندھیرے مجھ کو ڈسنے کے لیے تیار ہیں 

کوئی ہم سے بھی محبت آج کر کے دیکھ لے 

آنکھ میں اشکوں کو بھرنے کے لیے تیار ہیں 

Monday, 26 July 2021

میرا دعویٰ ہے پارسا ہوتے

 میرا دعویٰ ہے پارسا ہوتے

تم اگر غم سے آشنا ہوتے

بارشِ آسماں دہل جاتی 

میرے آنسو جو بے ردا ہوتے

کون ڈھوتا تیرے خیالوں کو

سوچ گر ہم بھی بے وفا ہوتے

Sunday, 11 July 2021

چھو اگر لیں گے تیرے لب آئینہ ہوجاؤں گا

 چھو اگر لیں گے تیرے لب آئینہ ہوجاؤں گا

ورنہ پتھر ہوں کسی دن حادثہ ہو جاؤں گا

میں ابھی سے کیا بتاؤں لذتِ زخمِ جگر

دھیرے دھیرے عشق تجھ سے آشنا ہو جاؤں گا

زندگی کو چاہیے مدِ مقابل اک عدو

گر فنا ہو جائے گا، تو میں  فنا ہو جاؤں گا