Saturday, 19 March 2022

عشق تیری دنیا میں کیا سے کیا نہیں ہوتا

 عشق تیری دنیا میں کیا سے کیا نہیں ہوتا

جس کو آئینہ سمجھے آئینہ نہیں ہوتا

مسئلہ ضرورت کا توڑتا ہے سب رشتہ 

آدمی محبت میں بے وفا نہیں ہوتا

سب سے ملنے جلنے میں دل کے ہو گئے ٹکڑے

اب کسی سے ملنے کا حوصلہ نہیں ہوتا

دوسروں کے شجروں پر وہ ہی طنز کرتے ہیں 

جن کو اپنے شجرے کا خود پتا نہیں ہوتا 

بیج جیسا ڈالو گے ویسی فصل پاؤ گے  

ہاتھ کی لکیروں میں کچھ لکھا نہیں ہوتا 

 میں بھی بے خبر ہوتا عشق کی عبادت سے

آپ سے اگر میرا رابطہ نہیں ہوتا

کہہ دے ہنسنے والوں سے آج اے شب فرقت 

پاس ایک میت کے قہقہ نہیں ہوتا

ظلم کرنے والوں پر ہم بھی ظلم کر دیتے

گر ہماری آنکھوں میں کربلا نہیں ہوتا

ایک بار ہوتا ہے عشق مہرباں اے دل

عشق زندگی میں پھر دوسرا نہیں ہوتا


دل سکندر پوری 

No comments:

Post a Comment