عشق تیری دنیا میں کیا سے کیا نہیں ہوتا
جس کو آئینہ سمجھے آئینہ نہیں ہوتا
مسئلہ ضرورت کا توڑتا ہے سب رشتہ
آدمی محبت میں بے وفا نہیں ہوتا
سب سے ملنے جلنے میں دل کے ہو گئے ٹکڑے
اب کسی سے ملنے کا حوصلہ نہیں ہوتا
دوسروں کے شجروں پر وہ ہی طنز کرتے ہیں
جن کو اپنے شجرے کا خود پتا نہیں ہوتا
بیج جیسا ڈالو گے ویسی فصل پاؤ گے
ہاتھ کی لکیروں میں کچھ لکھا نہیں ہوتا
میں بھی بے خبر ہوتا عشق کی عبادت سے
آپ سے اگر میرا رابطہ نہیں ہوتا
کہہ دے ہنسنے والوں سے آج اے شب فرقت
پاس ایک میت کے قہقہ نہیں ہوتا
ظلم کرنے والوں پر ہم بھی ظلم کر دیتے
گر ہماری آنکھوں میں کربلا نہیں ہوتا
ایک بار ہوتا ہے عشق مہرباں اے دل
عشق زندگی میں پھر دوسرا نہیں ہوتا
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment