Showing posts with label شائستہ الیاس. Show all posts
Showing posts with label شائستہ الیاس. Show all posts

Saturday, 1 January 2022

ہمیں تم سے محبت ہے لو ہم اقرار کرتے ہیں

 اقرار


قسم سے، ہم تمہاری یاد کا تکیہ

سرہانے رکھ کے سوتے ہیں

ہماری آنکھ کے موتی

تمہارے نام کی مالا پروتے ہیں

قسم سے، چاند اور تارے

Tuesday, 8 June 2021

ہم کو محبتوں میں خسارا نہیں ہوا

 ہم کو محبتوں میں خسارا نہیں ہوا

یہ اور بات اپنا گزارا نہیں ہوا

سارا حساب ضرب و نفی نے بدل دیا

تیرے کئے ہوؤں کا شمارا نہیں ہوا

دل میں تِرے خیال کی خوشبو نہیں رہی

آنکھوں میں اب کے کوئی ستارا نہیں رہا

Wednesday, 9 September 2020

فاصلہ ضد ہی رہا جس کو مٹایا نہ گیا

فاصلہ ضد ہی رہا، جس کو مٹایا نہ گیا
تم سے آیا نہ گیا، ہم سے منایا نہ گیا
عمر بھر ایک سے خوابوں سے ہوا ہے گھاٹا
زندگی! ہم سے تِرا قرض چکایا نہ گیا
ایک انبار تھا شکوؤں کا مِرے چاروں طرف
بس یہی بوجھ مِرے دل سے اٹھایا نہ گیا

Monday, 7 September 2020

آنکھوں کے منظروں پہ نگیں چھوڑ آئی ہوں

آنکھوں کے منظروں پہ نگیں چھوڑ آئی ہوں
کچھ خواب اپنے زیرِ زمیں چھوڑ آئی ہوں
رہتا ہے کیسے دیکھنا اب کشمکش میں وہ
میں بندگی کا اس میں یقیں چھوڑ آئی ہوں
ڈھونڈے گا مدتوں مجھے وہ اپنے آپ میں
میں اس میں اپنا آپ کہیں چھوڑ آئی ہوں

Sunday, 6 September 2020

کوئی آہٹ ہے نہ اب کوئی اشارہ دل میں

کوئی آہٹ ہے, نہ اب کوئی اشارا دل میں
ہم نے اک عمر رکھا تجھ کو سنوارا دل میں
اور کیا کم تھے, مِری جاں کو جھمیلے پہلے
تیری خواہش نے بھی اب پاؤں پسارا دل میں
اس نے سنتے ہی صدا دوڑ کے آ جانا تھا
میری غلطی تھی اسے میں نے پکارا دل میں

شرط جینے کی کہاں تھا پہلے

شرط جینے کی کہاں تھا پہلے
تُو فقط وہم و گماں تھا پہلے
رسمِ منصور نبھائی ہم نے
اتنا آسان کہاں تھا پہلے
اب جو آنکھوں میں اتر آیا ہے
درد سینے میں نہاں تھا پہلے

Saturday, 5 September 2020

ممکن نہیں جواب ملیں اب سوال کے

ممکن نہیں جواب ملیں اب سوال کے
دھاگے الجھ رہے ہیں ابھی تو خیال کے
ناکام خواہشات میں تکلیف کے سوا
ملنا ہی کیا تھا اورجو رکھتے سنبھال کے
دل میں کوئی خلش ہے نہ چہرے پہ رنج ہے
رکھنا ہے اب ملال کو جی سے نکال کے

مری اس جاں کے بنکوں میں

احتساب

مِری اس جاں کے بنکوں میں
اثاثے بے تحاشا ہیں
غموں کی بے پناہ دولت
عجب زخموں کے سکے ہیں
کہیں ہیں محل خوابوں کے
تو زیور دُکھ کے رکھے ہیں

Thursday, 20 October 2016

اس سے پہلے کے یہ خواہش وصل مٹے

خواہش

اس سے پہلے کے یہ خواہشِ وصل مٹے
اس سے پہلے کے میری آنکھ میں تارے نہ رہیں
اس سے پہلے کے میرے خون میں گرمی نہ رہے
اس سے پہلے کے میری سانس میں خوشبو نہ رہے
مہرباں ہو کے ہمیشہ کے لیے نہ آؤ

کیوں یاد کے دریا کا کنارا نہیں ہوتا

کیوں یاد کے دریا کا کنارا نہیں ہوتا 
ٹوٹے ہوئے خوابوں پہ گزارا نہیں ہوتا
پھرتے ہیں تیرے شہر میں ہم ابر کی صورت 
تجھ سے تو برسنے کا اشارا نہیں ہوتا
قبضہ ہے میرے دل پہ تیری یاد کا جاناں 
اس جبر مسلسل سے کنارا نہیں ہوتا

مسئلہ ہے کہ کچھ کیا جائے

مسئلہ ہے کہ کچھ کِیا جائے 
مسئلہ ہے کہ کیا کیا جائے
زندگی زہر کا پیالہ ہے 
مسئلہ ہے کہ یہ پیا جائے
پیراہنِ حیات ادھڑا ہے 
مسئلہ ہے کہ یہ سِیا جائے

آپ کی رحمتوں کے سائے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

آپؐ کی رحمتوں کے سائے ہیں 
ہم نے کیا کیا نصیب پائے ہیں
بن کے قرآن میں سراج و منیر 
دونوں عالم کو جگمگائے ہیں
سفر معراج سے ہمارے لیے 
تحفۂ مغفرت بھی لائے ہیں