اقرار
قسم سے، ہم تمہاری یاد کا تکیہ
سرہانے رکھ کے سوتے ہیں
ہماری آنکھ کے موتی
تمہارے نام کی مالا پروتے ہیں
قسم سے، چاند اور تارے
اقرار
قسم سے، ہم تمہاری یاد کا تکیہ
سرہانے رکھ کے سوتے ہیں
ہماری آنکھ کے موتی
تمہارے نام کی مالا پروتے ہیں
قسم سے، چاند اور تارے
ہم کو محبتوں میں خسارا نہیں ہوا
یہ اور بات اپنا گزارا نہیں ہوا
سارا حساب ضرب و نفی نے بدل دیا
تیرے کئے ہوؤں کا شمارا نہیں ہوا
دل میں تِرے خیال کی خوشبو نہیں رہی
آنکھوں میں اب کے کوئی ستارا نہیں رہا