شرط جینے کی کہاں تھا پہلے
تُو فقط وہم و گماں تھا پہلے
رسمِ منصور نبھائی ہم نے
اتنا آسان کہاں تھا پہلے
اب جو آنکھوں میں اتر آیا ہے
آگ نفرت کی بھڑک اٹھی ہے
شہر میں صرف دھواں تھا پہلے
جو گریزاں ہے مِرے ذکر سے اب
میں کبھی وردِ زباں تھا پہلے
شائستہ الیاس
No comments:
Post a Comment