Sunday, 6 September 2020

شرط جینے کی کہاں تھا پہلے

شرط جینے کی کہاں تھا پہلے
تُو فقط وہم و گماں تھا پہلے
رسمِ منصور نبھائی ہم نے
اتنا آسان کہاں تھا پہلے
اب جو آنکھوں میں اتر آیا ہے
درد سینے میں نہاں تھا پہلے
آگ نفرت کی بھڑک اٹھی ہے
شہر میں صرف دھواں تھا پہلے
جو گریزاں ہے مِرے ذکر سے اب
میں کبھی وردِ زباں تھا پہلے

شائستہ الیاس

No comments:

Post a Comment