زندہ رہے میرے وطن
زندہ رہے میرا وطن
ہے یہ بہت پیارا وطن
مرنے کو ہے اس کے لیے
حاضر ہر ایک روح و بدن
دیکھو معاشیات کو
ترسو نہیں خیرات کو
زندہ رہے میرے وطن
زندہ رہے میرا وطن
ہے یہ بہت پیارا وطن
مرنے کو ہے اس کے لیے
حاضر ہر ایک روح و بدن
دیکھو معاشیات کو
ترسو نہیں خیرات کو
کہو تو کیسے یہ نہرِ فرات چلتی ہے
زمین پہ لے کے غمِ کائنات چلتی ہے
ہر ایک موج سے آتی ہے العطش کی آواز
ہر ایک لہر میں سکینہؑ کی بات چلتی ہے
حسینؑ سب کا ہے لیکن کوئی حسینؑ کا نہیں
جہاں میں سیرتِ اہلِ منات چلتی ہے
بہت سے حق کے پروانے جلے ہیں ان پہاڑوں میں
بہت سے راز قدرت کے کھلے ہیں ان پہاڑوں میں
جواہر کی چٹانیں کر رہی ہیں جس طرح بارش
گُہر بھی فخر و عرفاں کے ملے ہیں ان پہاڑوں میں
یہ جیسے کوہ پیمائی کی ٹیمیں آج چلتی ہیں
فقیران خدا پہلے چلے ہیں ان پہاڑوں میں
کب تلک دیکھے گی یہ دنیا سرابِ زندگی
پی کے کس نے قے نہیں کی ہے شرابِ زندگی
ایک اک کلمہ بھرا ہے تلخیوں سے لاکھ لاکھ
میں نے یہ دیکھا پڑھی ہے جب کتابِ زندگی
زندگی ہے موت لیکن موت آئے گی نہیں
جب تلک دیکھے نہ انساں پیچ و تابِ زندگی
موت
بن کے پیغام الٰہی موت آئے گی کبھی
روح تِرے خاکی جسد کو چھوڑ جائے گی کبھی
تُو نے سینے سے لگا رکھی ہے دنیا عمر بھر
لحد کی گودی میں یہ تجھ کو بٹھائے گی کبھی
موت کا منشور سننا ہے تو کر لے انتظار
ایک اور عالم کی بات تجھ کو سنائے گی کبھی