Showing posts with label باغ حسین کمال. Show all posts
Showing posts with label باغ حسین کمال. Show all posts

Sunday, 11 January 2026

نور و نکہت میں ڈھلی ظلمت شب آج کے دن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نُور و نکہت میں ڈھلی ظلمتِ شب آج کے دن

زیست کو مِل گیا جینے کا سبب آج کے دن

آسماں جُھوم اٹھے، خاک ہنسی، لہرائی

تیری آمد کا تھا انداز عجب آج کے دن

آدمیت کہ مقدّر میں رہی جس کے فُغاں

تیرے آنے سے ہوئی خندہ بہ لب آج کے دن

Tuesday, 7 January 2025

آؤ کر لیں پھر کچھ باتیں حسین کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آؤ کر لیں پھر کچھ باتیں حسینؑ کی

کتنی کربناک تھیں وہ شہادتیں حسین کی

صدیوں سے جو ہو رہے ہیں سجدے جا بجا

مگر عبادتیں تو ہیں صرف عبادتیں حسین کی

اجالا نگل گئی، جہالت کی سیاہ رات

روشن ہیں آج تک وہ راتیں حسین کی

Tuesday, 3 December 2024

مصطفیٰ میرے رہبر کروڑوں سلام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مصطفیٰؐ میرے رہبر کروڑوں سلام

مجتبیٰﷺ یارِ داور، کروڑوں سلام

والئ دو جہاں تیری رحمت کی خیر

شاہِ روضۂ اطہر، کروڑوں سلام

آسمانِ رسالت کا تُوﷺ آفتاب

ہیں نبیؑ سارے اختر، کروڑوں سلام

Sunday, 1 December 2024

میری نظر میں فروزاں اک مہ کامل رہا

 میری نظر میں فروزاں اک مہِ کامل رہا

رات بزمِ ذکر میں اے دوست! میں شامل رہا

دست بوسی میں بھی کر لوں گا رسول اللہؐ کی

گر کرم حضرت کا میرے حال میں شامل رہا

آنکھ میری کھل گئی، لیکن بہت افسوس ہے

ہائے وہ مُدت کہ جس میں کاہل و غافل رہا

Friday, 24 November 2023

ایک نشہ ہے کہ چھائے ہے ترے نام کے ساتھ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ایک نشہ ہے کہ چھائے ہے ترے نام کے ساتھ

اک تسلی ہے کہ آئے ہے ترے نام کے ساتھ

عنبر و عود لُٹائے ہے تری یادِ جمیل

ایک خُوشبو ہے کہ آئے ہے ترے نام کے ساتھ

گویا کونین کی دولت کو سمیٹا اس نے

دل کی دنیا جو بسائے ہے ترے نام کے ساتھ

Friday, 2 April 2021

یاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا

 یاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا

جسم کا ایک بگڑتا ہوا خاکہ دیکھا

اپنی صورت بھی نہ پہچان سکی آنکھ مِری

مدتوں بعد جو میں نے کبھی شیشہ دیکھا

شہر پر ہول میں اب کے یہ عجب منظر تھا

سنگ کشادہ تھا مگر سنگ کو بستہ دیکھا