عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نُور و نکہت میں ڈھلی ظلمتِ شب آج کے دن
زیست کو مِل گیا جینے کا سبب آج کے دن
آسماں جُھوم اٹھے، خاک ہنسی، لہرائی
تیری آمد کا تھا انداز عجب آج کے دن
آدمیت کہ مقدّر میں رہی جس کے فُغاں
تیرے آنے سے ہوئی خندہ بہ لب آج کے دن
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نُور و نکہت میں ڈھلی ظلمتِ شب آج کے دن
زیست کو مِل گیا جینے کا سبب آج کے دن
آسماں جُھوم اٹھے، خاک ہنسی، لہرائی
تیری آمد کا تھا انداز عجب آج کے دن
آدمیت کہ مقدّر میں رہی جس کے فُغاں
تیرے آنے سے ہوئی خندہ بہ لب آج کے دن
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آؤ کر لیں پھر کچھ باتیں حسینؑ کی
کتنی کربناک تھیں وہ شہادتیں حسین کی
صدیوں سے جو ہو رہے ہیں سجدے جا بجا
مگر عبادتیں تو ہیں صرف عبادتیں حسین کی
اجالا نگل گئی، جہالت کی سیاہ رات
روشن ہیں آج تک وہ راتیں حسین کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مصطفیٰؐ میرے رہبر کروڑوں سلام
مجتبیٰﷺ یارِ داور، کروڑوں سلام
والئ دو جہاں تیری رحمت کی خیر
شاہِ روضۂ اطہر، کروڑوں سلام
آسمانِ رسالت کا تُوﷺ آفتاب
ہیں نبیؑ سارے اختر، کروڑوں سلام
میری نظر میں فروزاں اک مہِ کامل رہا
رات بزمِ ذکر میں اے دوست! میں شامل رہا
دست بوسی میں بھی کر لوں گا رسول اللہؐ کی
گر کرم حضرت کا میرے حال میں شامل رہا
آنکھ میری کھل گئی، لیکن بہت افسوس ہے
ہائے وہ مُدت کہ جس میں کاہل و غافل رہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایک نشہ ہے کہ چھائے ہے ترے نام کے ساتھ
اک تسلی ہے کہ آئے ہے ترے نام کے ساتھ
عنبر و عود لُٹائے ہے تری یادِ جمیل
ایک خُوشبو ہے کہ آئے ہے ترے نام کے ساتھ
گویا کونین کی دولت کو سمیٹا اس نے
دل کی دنیا جو بسائے ہے ترے نام کے ساتھ
یاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا
جسم کا ایک بگڑتا ہوا خاکہ دیکھا
اپنی صورت بھی نہ پہچان سکی آنکھ مِری
مدتوں بعد جو میں نے کبھی شیشہ دیکھا
شہر پر ہول میں اب کے یہ عجب منظر تھا
سنگ کشادہ تھا مگر سنگ کو بستہ دیکھا