صدیوں کو راستے دکھا لمحوں کو سازگار کر
دل کو بنا چراغِ شب سورج کو شرمسار کر
شکر، سکوں نصیبِ جاں، صبر، حیات رائیگاں
سوزِ طریق زندگی لمحوں یہ اختیار کر
ان کے بغیر روح کو کیسے ملے کھلی فضا
آگ کو ہم زباں بنا دریا کو راز دار کر
صدیوں کو راستے دکھا لمحوں کو سازگار کر
دل کو بنا چراغِ شب سورج کو شرمسار کر
شکر، سکوں نصیبِ جاں، صبر، حیات رائیگاں
سوزِ طریق زندگی لمحوں یہ اختیار کر
ان کے بغیر روح کو کیسے ملے کھلی فضا
آگ کو ہم زباں بنا دریا کو راز دار کر
زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں
اب اگر پتھر سے ٹکراؤں تو سر پھٹتا نہیں
پی رہی ہے قطرہ قطرہ میرے خوابوں کا لہو
میں ہوں دنیا کے لیے، میرے لیے دنیا نہیں
مٹ چکے ہیں دل سے یوں حالات کے دھندلے نقوش
جس طرح گزرا ہوا لمحہ کبھی آتا نہیں
پوچھا میرا نام جہاں تنہائی نے
چھایا لکھ دی چہرے پہ گہرائی نے
اس دن سے کپڑوں کا احساں ہے تن پر
مجھے چُھوا تھا جس دن بوڑھی دائی نے
مٹی چُھو کر ہرا بھرا پودا نکلا
پربت کو بھی آنکھ دکھائی رائی نے
آرزو سلگتی ہے ہو کے مَس ہواؤں سے
آگ سی برستی ہے ساونی گھٹاؤں سے
بے بسیٔ آدم کا غم تو خیر سب کو ہے
کون بھیک مانگے گا رحم کے خداؤں سے
نا مُراد جینا تھا،۔ نا مُراد جیتے ہیں
کیا گِلہ کرے کوئی اپنے آشناؤں سے
سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا
گزرتے لمحوں سے تقسیم ذات مت کرنا
بچا کر تیز ہوا میں بکھرنا پڑتا ہے
انا کو نذرِ غمِ حادثات مت کرنا
نہ جانے کون کہاں کیا سوال کر بیٹھے
غبارِ راہگزر اپنے ساتھ مت کرنا
قدم قدم آسماں بھی مثلِ زمیں ہے مجھ کو
یہ کائنات نگاہِ بیتِ یقیں ہے مجھ کو
لباس بن کر جو روز و شب کے بدن پہ جاگا
وہ زندگی کا وجود ہی دل نشیں ہے مجھ کو
نگاہ پھیرے جو خود نمائی میرے یقیں سے
تو پھر بتاؤں حیات کتنی حسیں ہے مجھ کو
کوئی شاداب و حسیں شہر کا منظر دیکھو
جھانک کر روزن احساس سے باہر دیکھو
میری آواز، مِرا جسم، مِرا چہرہ ہے
ہو جو ممکن تو مجھے ہاتھ لگا کر دیکھو
عمر بھر اپنا تعاقب کیا ہم نے در در
اور اس عکس کا اصرار تھا؛ پیکر دیکھو
حسیں دماغ ملے، جاگتا شعور ملے
خدا کرے کہ تجھے راستے میں نور ملے
بہت ہے سایۂ بیدار خلوت غم کا
کہ خلوتوں کے امیں بے خودی میں چور ملے
یہی جتن ہے کہ تقدیر سرنگوں نہ رہے
اسے بھی اس نگۂ ناز کا غرور ملے