Showing posts with label نصیر پرواز. Show all posts
Showing posts with label نصیر پرواز. Show all posts

Monday, 7 August 2023

صدیوں کو راستے دکھا لمحوں کو سازگار کر

 صدیوں کو راستے دکھا لمحوں کو سازگار کر

دل کو بنا چراغِ شب سورج کو شرمسار کر

شکر، سکوں نصیبِ جاں، صبر، حیات رائیگاں

سوزِ طریق زندگی لمحوں یہ اختیار کر

ان کے بغیر روح کو کیسے ملے کھلی فضا

آگ کو ہم زباں بنا دریا کو راز دار کر

Tuesday, 7 March 2023

زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں

زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں 

اب اگر پتھر سے ٹکراؤں تو سر پھٹتا نہیں

پی رہی ہے قطرہ قطرہ میرے خوابوں کا لہو 

میں ہوں دنیا کے لیے، میرے لیے دنیا نہیں

مٹ چکے ہیں دل سے یوں حالات کے دھندلے نقوش 

جس طرح گزرا ہوا لمحہ کبھی آتا نہیں

Tuesday, 25 October 2022

پوچھا میرا نام جہاں تنہائی نے

 پوچھا میرا نام جہاں تنہائی نے

چھایا لکھ دی چہرے پہ گہرائی نے

اس دن سے کپڑوں کا احساں ہے تن پر

مجھے چُھوا تھا جس دن بوڑھی دائی نے

مٹی چُھو کر ہرا بھرا پودا نکلا

پربت کو بھی آنکھ دکھائی رائی نے

Thursday, 20 October 2022

آرزو سلگتی ہے ہو کے مس ہواؤں سے

 آرزو سلگتی ہے ہو کے مَس ہواؤں سے

آگ سی برستی ہے ساونی گھٹاؤں سے

بے بسیٔ آدم کا غم تو خیر سب کو ہے

کون بھیک مانگے گا رحم کے خداؤں سے

نا مُراد جینا تھا،۔ نا مُراد جیتے ہیں

کیا گِلہ کرے کوئی اپنے آشناؤں سے

Thursday, 14 April 2022

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا

گزرتے لمحوں سے تقسیم ذات مت کرنا

بچا کر تیز ہوا میں بکھرنا پڑتا ہے

انا کو نذرِ غمِ حادثات مت کرنا

نہ جانے کون کہاں کیا سوال کر بیٹھے

غبارِ راہگزر اپنے ساتھ مت کرنا

Monday, 14 March 2022

قدم قدم آسماں بھی مثل زمیں ہے مجھ کو

قدم قدم آسماں بھی مثلِ زمیں ہے مجھ کو

یہ کائنات نگاہِ بیتِ یقیں ہے مجھ کو

لباس بن کر جو روز و شب کے بدن پہ جاگا

وہ زندگی کا وجود ہی دل نشیں ہے مجھ کو

نگاہ پھیرے جو خود نمائی میرے یقیں سے

تو پھر بتاؤں حیات کتنی حسیں ہے مجھ کو

Sunday, 13 March 2022

جھانک کر روزن احساس سے باہر دیکھو

کوئی شاداب و حسیں شہر کا منظر دیکھو

جھانک کر روزن احساس سے باہر دیکھو

میری آواز، مِرا جسم، مِرا چہرہ ہے

ہو جو ممکن تو مجھے ہاتھ لگا کر دیکھو

عمر بھر اپنا تعاقب کیا ہم نے در در

اور اس عکس کا اصرار تھا؛ پیکر دیکھو

Saturday, 5 December 2020

حسیں دماغ ملے جاگتا شعور ملے

حسیں دماغ ملے، جاگتا شعور ملے 

خدا کرے کہ تجھے راستے میں نور ملے

بہت ہے سایۂ بیدار خلوت غم کا 

کہ خلوتوں کے امیں بے خودی میں چور ملے

یہی جتن ہے کہ تقدیر سرنگوں نہ رہے 

اسے بھی اس نگۂ ناز کا غرور ملے