Thursday, 14 April 2022

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا

گزرتے لمحوں سے تقسیم ذات مت کرنا

بچا کر تیز ہوا میں بکھرنا پڑتا ہے

انا کو نذرِ غمِ حادثات مت کرنا

نہ جانے کون کہاں کیا سوال کر بیٹھے

غبارِ راہگزر اپنے ساتھ مت کرنا

سمیٹنا نہ سرِ راہ خواب کی کِرچیں

لہو لہان کبھی اپنے ہاتھ مت کرنا

نہیں گناہ کسی شے کی آرزو لیکن

اس آرزو کو غمِ کائنات مت کرنا

ہیں درمیاں میں ابھی فاصلے اصولوں کے

قریب آ کے ابھی مجھ سے بات مت کرنا

زوالِ ذات تو پرواز سب کی قسمت ہے

یقینِ دل کو مگر بے ثبات مت کرنا


نصیر پرواز

No comments:

Post a Comment