Showing posts with label منوج اظہر. Show all posts
Showing posts with label منوج اظہر. Show all posts

Saturday, 17 February 2024

دیواروں کو حال سنایا جا سکتا ہے

 دنیا سے تو جھوٹ بتایا جا سکتا ہے

لیکن دل کیسے سمجھایا جا سکتا ہے

تنہا لوگو! دیواریں تو سُن لیتی ہیں

دیواروں کو حال سُنایا جا سکتا ہے

عُمر لُٹائی جا سکتی ہے اک لمحے پر

اک لمحہ تا عُمر چلایا جا سکتا ہے

Thursday, 11 January 2024

ہر ایک عہد وفا ریت سا بکھرتا ہوا

 ہر ایک عہدِ وفا ریت سا بِکھرتا ہُوا

گُزر گیا وہ ہوا کی طرح مُکرتا ہوا

خموشیوں کے سمندر میں ڈُوبتی ہوئی رات

اُداس دل میں کوئی شور سا اُبھرتا ہوا

اُمید بُنتی ہوئی رات بھر سُنہری خواب

دن اپنے ہاتھوں اُنہیں تار تار کرتا ہوا

Sunday, 16 October 2022

کبھی تصویر سے باہر نکل کر بول بھی اٹھو

 مرحوم


کبھی تصویر سے باہر نکل کر بول بھی اٹھو 

ہمیشہ ایک سا چہرہ لیے کیوں تکتے رہتے ہو 

ذرا ہونٹوں کو جنبش اور لفظوں کو رہائی دو 

اکیلا پڑ گیا ہوں میں، ذرا میری صفائی دو 

ماں اکثر میری کھانسی پر تمہارا دھوکا کھاتی ہے 

یہ بڑ کی میری اک عادت تمہاری سی بتاتی ہے 

Monday, 14 March 2022

یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اتارے گئے

یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اُتارے گئے

تمہارے بعد کے موسم فقط گُزارے گئے

ذرا سی دور تو سیلاب کے سہارے گئے

بھنور میں اُلجھے تو پھر ہاتھ پاؤں مارے گئے

صدا کا دیر تلک گُونجنا بہت بھایا

پھر ایک نام بیاباں میں ہم پُکارے گئے

Tuesday, 1 December 2020

رات سائے سے بھی جھگڑا کر لیا

رات سائے سے بھی جھگڑا کر لِیا

خُود کو بالکل ہی اکیلا کر لیا

بُھولنے کی ضِد میں یہ کیا کر لیا

رنگ ہی یادوں کا پکّا کر لیا

وہ بھی ہم سے اجنبی بن کر مِلا

ہم نے بھی لہجے کو سادہ کر لیا