دنیا سے تو جھوٹ بتایا جا سکتا ہے
لیکن دل کیسے سمجھایا جا سکتا ہے
تنہا لوگو! دیواریں تو سُن لیتی ہیں
دیواروں کو حال سُنایا جا سکتا ہے
عُمر لُٹائی جا سکتی ہے اک لمحے پر
اک لمحہ تا عُمر چلایا جا سکتا ہے
دنیا سے تو جھوٹ بتایا جا سکتا ہے
لیکن دل کیسے سمجھایا جا سکتا ہے
تنہا لوگو! دیواریں تو سُن لیتی ہیں
دیواروں کو حال سُنایا جا سکتا ہے
عُمر لُٹائی جا سکتی ہے اک لمحے پر
اک لمحہ تا عُمر چلایا جا سکتا ہے
ہر ایک عہدِ وفا ریت سا بِکھرتا ہُوا
گُزر گیا وہ ہوا کی طرح مُکرتا ہوا
خموشیوں کے سمندر میں ڈُوبتی ہوئی رات
اُداس دل میں کوئی شور سا اُبھرتا ہوا
اُمید بُنتی ہوئی رات بھر سُنہری خواب
دن اپنے ہاتھوں اُنہیں تار تار کرتا ہوا
مرحوم
کبھی تصویر سے باہر نکل کر بول بھی اٹھو
ہمیشہ ایک سا چہرہ لیے کیوں تکتے رہتے ہو
ذرا ہونٹوں کو جنبش اور لفظوں کو رہائی دو
اکیلا پڑ گیا ہوں میں، ذرا میری صفائی دو
ماں اکثر میری کھانسی پر تمہارا دھوکا کھاتی ہے
یہ بڑ کی میری اک عادت تمہاری سی بتاتی ہے
یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اُتارے گئے
تمہارے بعد کے موسم فقط گُزارے گئے
ذرا سی دور تو سیلاب کے سہارے گئے
بھنور میں اُلجھے تو پھر ہاتھ پاؤں مارے گئے
صدا کا دیر تلک گُونجنا بہت بھایا
پھر ایک نام بیاباں میں ہم پُکارے گئے
رات سائے سے بھی جھگڑا کر لِیا
خُود کو بالکل ہی اکیلا کر لیا
بُھولنے کی ضِد میں یہ کیا کر لیا
رنگ ہی یادوں کا پکّا کر لیا
وہ بھی ہم سے اجنبی بن کر مِلا
ہم نے بھی لہجے کو سادہ کر لیا