عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا
وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھا
ہوا بھری ہوئی پھرتی تھی اب کے ساحل پر
کچھ ایسا حوصلہ کشتی کے بادبان میں تھا
ہمارے بھیگے ہوئے پر نہیں کھلے، ورنہ
ہمیں بلاتا ستارہ تو آسمان میں تھا
عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا
وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھا
ہوا بھری ہوئی پھرتی تھی اب کے ساحل پر
کچھ ایسا حوصلہ کشتی کے بادبان میں تھا
ہمارے بھیگے ہوئے پر نہیں کھلے، ورنہ
ہمیں بلاتا ستارہ تو آسمان میں تھا
عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے
نگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھے
وہ آشیانے نہیں تھے جہاں پہ چڑیاں تھیں
شجر کچھ اور سے ان پر ثمر کچھ اور سے تھے
تمام کشتیاں منجدھار میں گھری ہوئی تھیں
ہر ایک لہر میں بنتے بھنور کچھ اور سے تھے
ایک بزرگ شاعر پرندے کا تجربہ
عزیزو
اگر رات رستے میں آئے
اگر دانہ و دام کا سحر جاگے
اگر اڑتے اڑتے کسی روز تم آشیاں بھول جاؤ
تو پچھلی کہانی میں موجود جگنو سے دھوکا نہ کھانا
یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا
جب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھا
لکھا ہے داستاں میں کہ؛ گلشن اجڑتے وقت
گلچیں بے شمار تھے، مالی کوئی نہ تھا
اس دشت میں مِرا ہی ہیولیٰ تھا ہر طرف
میں نے ہی شمعِ عشق جلا لی کوئی نہ تھا
کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے
کس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہے
ایک طرہ سا تو میں دیکھ رہا ہوں، لیکن
کوئی بتلائے کہ دستار سے آگے کیا ہے
ظلم یہ ہے کہ یہاں بکتا ہے یوسفِ بے دام
اور نہیں جانتا بازار سے آگے کیا ہے
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا، کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تِری جستجو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کو بکو
کہاں کھل سکا تِرے رو بُرو، مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مِرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
بے گھری
خواب کی سلطنت سے ادھر
اک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لے
وہاں سائے ہی سائے ہیں
اکثر و بیشتر دھوپ میں رقص کرتے ہوئے
ریزگاری کی آواز پر دھڑکنیں تال دیتی ہیں تو جھلملاتے ہیں