Showing posts with label تابش کمال. Show all posts
Showing posts with label تابش کمال. Show all posts

Wednesday, 22 June 2022

عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا

 عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا

وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھا

ہوا بھری ہوئی پھرتی تھی اب کے ساحل پر

کچھ ایسا حوصلہ کشتی کے بادبان میں تھا

ہمارے بھیگے ہوئے پر نہیں کھلے، ورنہ

ہمیں بلاتا ستارہ تو آسمان میں تھا

Wednesday, 27 April 2022

عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے

 عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے

نگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھے

وہ آشیانے نہیں تھے جہاں پہ چڑیاں تھیں

شجر کچھ اور سے ان پر ثمر کچھ اور سے تھے

تمام کشتیاں منجدھار میں گھری ہوئی تھیں

ہر ایک لہر میں بنتے بھنور کچھ اور سے تھے

Monday, 22 November 2021

عزیزو اگر رات رستے میں آئے

 ایک بزرگ شاعر پرندے کا تجربہ


عزیزو

اگر رات رستے میں آئے

اگر دانہ و دام کا سحر جاگے

اگر اڑتے اڑتے کسی روز تم آشیاں بھول جاؤ

تو پچھلی کہانی میں موجود جگنو سے دھوکا نہ کھانا

Sunday, 21 November 2021

یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا

 یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا

جب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھا

لکھا ہے داستاں میں کہ؛ گلشن اجڑتے وقت

گلچیں بے شمار تھے، مالی کوئی نہ تھا

اس دشت میں مِرا ہی ہیولیٰ تھا ہر طرف

میں نے ہی شمعِ عشق جلا لی کوئی نہ تھا

Saturday, 20 November 2021

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

 کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

کس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہے

ایک طرہ سا تو میں دیکھ رہا ہوں، لیکن

کوئی بتلائے کہ دستار سے آگے کیا ہے

ظلم یہ ہے کہ یہاں بکتا ہے یوسفِ بے دام

اور نہیں جانتا بازار سے آگے کیا ہے

Friday, 19 November 2021

کبھی اس نگر تجھے دیکھنا کبھی اس نگر تجھے ڈھونڈنا

 کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا، کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا

کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا

مجھے جا بجا تِری جستجو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کو بکو

کہاں کھل سکا تِرے رو بُرو، مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا

مِرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا

کبھی عرش پر تجھے دیکھنا کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا

Wednesday, 9 June 2021

بے گھری خواب کی سلطنت سے ادھر

 بے گھری


خواب کی سلطنت سے ادھر

اک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لے

وہاں سائے ہی سائے ہیں

اکثر و بیشتر دھوپ میں رقص کرتے ہوئے

ریزگاری کی آواز پر دھڑکنیں تال دیتی ہیں تو جھلملاتے ہیں