Showing posts with label تری پراری. Show all posts
Showing posts with label تری پراری. Show all posts

Wednesday, 17 November 2021

اس طرح رسم محبت کی ادا ہوتی ہے

 اس طرح رسم محبت کی ادا ہوتی ہے

آج سے تیری مِری راہ جدا ہوتی ہے

میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہوں

جب بھی کانوں میں اذانوں کی صدا ہوتی ہے

بد دعا کوئی اگر دے تو بُرا مت مانو

بد دعا بھی تو مِری جان! دعا ہوتی ہے

Sunday, 7 November 2021

بھاڑے کا اک مکاں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے

 بھاڑے کا اک مکاں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے

اپنا ہی مہماں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے

کوئی بتائے مجھ کو زندہ ہوں مر چکا ہوں

گر ہوں تو میں کہاں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے

کچھ بھی نہیں بچا ہے بس دور تک خلا ہے

کیا میں ہی آسماں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے

Thursday, 4 November 2021

وہ تو مل کر بھی نہیں ملتی ہے

 وہ تو مل کر بھی نہیں ملتی ہے

جانے کس دُھن میں رہا کرتی ہے

چُوم لیتی ہے مِرا ماتھا جب

ایک خُوشبو سی برس پڑتی ہے

سوچ لیتا ہوں اسے دم بھر کو

اور یہ رُوح مہک اُٹھتی ہے

Wednesday, 3 November 2021

کبھی کسی نے جو دل دکھایا تو دل کو سمجھا گئی اداسی

 کبھی کسی نے جو دل دُکھایا تو دل کو سمجھا گئی اُداسی

محبتوں کے اصول سارے ہمیں بھی سِکھلا گئی اداسی

تمہیں جو سوچا تو میرے دل سے اداسیوں کا ہجوم گزرا

کبھی کبھی تو ہوا ہے یوں بھی کہ بے سبب چھا گئی اداسی

پڑی ہوئی تھی نڈھال ہو کر ہماری آنکھوں کے آنگنوں میں

کسی کی آہٹ سنی تو چونکی، ذرا سی گھبرا گئی اداسی

Thursday, 23 September 2021

تجربہ جو بھی ہے میرا میں وہی لکھتا ہوں

 تجربہ جو بھی ہے میرا میں وہی لکھتا ہوں

میں تصور کے بھروسے پہ نہیں بیٹھا ہوں

جب میں باہر سے بڑا سخت نظر آؤں گا

تم سمجھنا کہ میں اندر سے بہت ٹوٹا ہوں

جس کی خوشبو مجھے مسمار کیا کرتی ہے

میں اسی قبر پہ پھولوں کی طرح کھلتا ہوں