اس طرح رسم محبت کی ادا ہوتی ہے
آج سے تیری مِری راہ جدا ہوتی ہے
میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہوں
جب بھی کانوں میں اذانوں کی صدا ہوتی ہے
بد دعا کوئی اگر دے تو بُرا مت مانو
بد دعا بھی تو مِری جان! دعا ہوتی ہے
اس طرح رسم محبت کی ادا ہوتی ہے
آج سے تیری مِری راہ جدا ہوتی ہے
میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہوں
جب بھی کانوں میں اذانوں کی صدا ہوتی ہے
بد دعا کوئی اگر دے تو بُرا مت مانو
بد دعا بھی تو مِری جان! دعا ہوتی ہے
بھاڑے کا اک مکاں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے
اپنا ہی مہماں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے
کوئی بتائے مجھ کو زندہ ہوں مر چکا ہوں
گر ہوں تو میں کہاں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے
کچھ بھی نہیں بچا ہے بس دور تک خلا ہے
کیا میں ہی آسماں ہوں مجھ کو خبر نہیں ہے
وہ تو مل کر بھی نہیں ملتی ہے
جانے کس دُھن میں رہا کرتی ہے
چُوم لیتی ہے مِرا ماتھا جب
ایک خُوشبو سی برس پڑتی ہے
سوچ لیتا ہوں اسے دم بھر کو
اور یہ رُوح مہک اُٹھتی ہے
کبھی کسی نے جو دل دُکھایا تو دل کو سمجھا گئی اُداسی
محبتوں کے اصول سارے ہمیں بھی سِکھلا گئی اداسی
تمہیں جو سوچا تو میرے دل سے اداسیوں کا ہجوم گزرا
کبھی کبھی تو ہوا ہے یوں بھی کہ بے سبب چھا گئی اداسی
پڑی ہوئی تھی نڈھال ہو کر ہماری آنکھوں کے آنگنوں میں
کسی کی آہٹ سنی تو چونکی، ذرا سی گھبرا گئی اداسی
تجربہ جو بھی ہے میرا میں وہی لکھتا ہوں
میں تصور کے بھروسے پہ نہیں بیٹھا ہوں
جب میں باہر سے بڑا سخت نظر آؤں گا
تم سمجھنا کہ میں اندر سے بہت ٹوٹا ہوں
جس کی خوشبو مجھے مسمار کیا کرتی ہے
میں اسی قبر پہ پھولوں کی طرح کھلتا ہوں