Wednesday, 3 November 2021

کبھی کسی نے جو دل دکھایا تو دل کو سمجھا گئی اداسی

 کبھی کسی نے جو دل دُکھایا تو دل کو سمجھا گئی اُداسی

محبتوں کے اصول سارے ہمیں بھی سِکھلا گئی اداسی

تمہیں جو سوچا تو میرے دل سے اداسیوں کا ہجوم گزرا

کبھی کبھی تو ہوا ہے یوں بھی کہ بے سبب چھا گئی اداسی

پڑی ہوئی تھی نڈھال ہو کر ہماری آنکھوں کے آنگنوں میں

کسی کی آہٹ سنی تو چونکی، ذرا سی گھبرا گئی اداسی

ذرا سی دوری پہ بیٹھ کر وہ نگاہ مجھ سے ملا رہی تھی

جو اپنی بانہوں میں بھر لیا تو ادا سے شرما گئی اداسی

وہ دور بھی تھا کہ فاصلوں سے گزر رہی تھی ندی کی صورت

نہ جانے کس کی دعا ہے یارو! کہ مجھ میں بھی آ گئی اداسی

نہ جانے کن پہلوؤں میں رہ کر ہوئی ہے گہری مِری اداسی

نہ جانے کن کن لبوں سے پی کر یے زندگی پا گئی اداسی

ملی تھی جس دن لگا تھا یوں کے نہیں بنے گی کبھی ہماری

جو ساتھ ہم نے بِتائے کچھ دن، تو ایک دن بھا گئی اداسی


تری پراری

No comments:

Post a Comment