Showing posts with label سلمان سعید. Show all posts
Showing posts with label سلمان سعید. Show all posts

Monday, 18 May 2026

عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے

 اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے

عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے

پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں

اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے

کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں

باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے

Monday, 8 September 2025

محبتوں میں کسی کی ہوس ملائے ہوئے

 محبتوں میں کسی کی ہوس ملائے ہوئے

میں لوٹ آیا ہوں خالص بدن اٹھائے ہوئے

میں جتنا چیخوں گا اتنی خموشی پھیلے گی

کئی صدائیں ہیں سینے میں گھر بنائے ہوئے

تم اپنے کھانے میں جتنا نمک ملاتے ہو

میں اپنے غم میں ہوں اتنی خوشی ملائے ہوئے

Sunday, 17 August 2025

اتنی جلدی تو ترے فن میں نہیں آ سکتے

 اتنی جلدی تو ترے فن میں نہیں آ سکتے

ہجر کے کھیل لڑکپن میں نہیں آ سکتے

کوئی دامن ہو سلامت تو چلو رو بھی لوں

میرے آنسو کسی کترن میں نہیں آ سکتے

ہم سے پاگل کو سمجھ پانا ترے بس کا نہیں

ہم وہ دریا ہیں جو برتن میں نہیں آ سکتے

Thursday, 26 June 2025

پرانے غم کو نئے میں نئے پرانے میں

 پرانے غم کو نئے میں نئے پرانے میں

جوانی بیت رہی ہے انہیں ملانے میں

مجھے مٹانے میں خود کو مٹا دیا اس نے

ربر کو گھسنا پڑا ہے لکھا مٹانے میں

فقط یہ لکڑی نہیں ہے تمہاری بیساکھی

شجر کے ہاتھ کٹے ہیں اسے بنانے میں