اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے
عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے
پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں
اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے
کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں
باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے
اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے
عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے
پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں
اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے
کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں
باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے
محبتوں میں کسی کی ہوس ملائے ہوئے
میں لوٹ آیا ہوں خالص بدن اٹھائے ہوئے
میں جتنا چیخوں گا اتنی خموشی پھیلے گی
کئی صدائیں ہیں سینے میں گھر بنائے ہوئے
تم اپنے کھانے میں جتنا نمک ملاتے ہو
میں اپنے غم میں ہوں اتنی خوشی ملائے ہوئے
اتنی جلدی تو ترے فن میں نہیں آ سکتے
ہجر کے کھیل لڑکپن میں نہیں آ سکتے
کوئی دامن ہو سلامت تو چلو رو بھی لوں
میرے آنسو کسی کترن میں نہیں آ سکتے
ہم سے پاگل کو سمجھ پانا ترے بس کا نہیں
ہم وہ دریا ہیں جو برتن میں نہیں آ سکتے
پرانے غم کو نئے میں نئے پرانے میں
جوانی بیت رہی ہے انہیں ملانے میں
مجھے مٹانے میں خود کو مٹا دیا اس نے
ربر کو گھسنا پڑا ہے لکھا مٹانے میں
فقط یہ لکڑی نہیں ہے تمہاری بیساکھی
شجر کے ہاتھ کٹے ہیں اسے بنانے میں