Showing posts with label سحاب قزلباش. Show all posts
Showing posts with label سحاب قزلباش. Show all posts

Thursday, 20 July 2023

سلامی ماہ محرم کا احترام کرو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سلامئ ماہِ محرم کا احترام کرو

نبیِؐ کی آلؑ کے پُرسے کا انتظام کرو

زبان کافی نہیں اعترافِ حق کے لیے

حُسینیت کا کُھلے دل سے احترام کرو

سوائے رب کے جُھکے سر نہ غیر کے آگے

یہ عزمِ شاہِ شہیدانؑ ہے اس کو عام کرو

Thursday, 10 March 2022

حقارت سے نہ دیکھو دل کو جام جم بھی کہتے ہیں

 حقارت سے نہ دیکھو دل کو جامِ جم بھی کہتے ہیں

اسی خاکِ تپاں کو فاتحِ عالم بھی کہتے ہیں

یہ دل کی داستانِ مضطرب ہے جس کو دنیا میں

کہیں آنسو، کہیں موتی، کہیں شبنم بھی کہتے ہیں

کبھی کے اک تبسم کو سجا رکھا ہے ہونٹوں پر

بہت سے تو اسے پروردۂ ماتم بھی کہتے ہیں

Wednesday, 2 June 2021

جو بات منہ سے نکالیں تو جرم ہے اپنا

 جو بات منہ سے نکالیں تو جرم ہے اپنا

لہو کو راگ بنا لیں تو جرم ہے اپنا

حیا سے نیچی نگاہوں کو بند رکھنا ہے

نظر کبھی جو اٹھا لیں تو جرم ہے اپنا

لبوں پہ مہر ہو، دل لاکھ ٹکڑے ٹکڑے ہو

زباں سے حرف نکالیں تو جرم ہے اپنا

Thursday, 27 May 2021

محبت میں سکوں محرومیوں کے بعد آتا ہے

 محبت میں سکوں محرومیوں کے بعد آتا ہے

کہ جب ہر آسرا مٹ جائے تب دل چین پاتا ہے

خود اپنا ہی لہو آواز کو رنگیں بناتا ہے

کچل جاتا ہے جب دل تب کہیں نغمہ سُناتا ہے

یہ کیا جبر مشیّت ہے، یہ کیا جبرِ صداقت ہے

کہ جس کو ہم بھلانا چاہتے ہیں، یاد آتا ہے

Wednesday, 26 May 2021

یہ دستور دنیا سمجھ میں نہ آئے

 یہ دستورِ دنیا سمجھ میں نہ آئے

کہ جو زخم کھائے وہی مسکرائے

برا وقت یا رب کسی پہ نہ آئے

کہ اپنے بھی ہوتے ہیں اس میں پرائے

حضوری بھی دھوکا ہے، دوری بھی دھوکا

بہت دور نکلے جو نزدیک آئے

Saturday, 19 December 2020

غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے

 غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے

ترس گئے ہیں محبت کی زندگی کے لیے

کلی تبسم بے ساختہ سے پھول بنی

یہ لمحہ کافی ہے اب پوری زندگی کے لیے

غروبِ مہر پہ کس نے لہو چڑھایا ہے

یہ کس نے خون جلایا ہے روشنی کے لیے

Thursday, 3 December 2020

لے کے یادوں کے آج نذرانے اے وطن آئے تیرے دیوانے

 لے کے یادوں کے آج نذرانے

اے وطن آئے تیرے دیوانے

کوئی گلشن پرست کیا جانے

پھول میں کس قدر ہیں ویرانے

ہم کو جو کچھ دیا ہے دنیا نے

ہم سمجھتے ہیں یا خدا جانے

بڑھے چلو کہ تھکن تو نشے کی محفل ہے

 بڑھے چلو کہ تھکن تو نشے کی محفل ہے

ابھی تو دور، بہت دور اپنی منزل ہے 

یہ بے قرار تبسم، ترے لبوں کا فسوں 

یہی تو چاک گریباں کی پہلی منزل ہے 

کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی 

خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے 

Wednesday, 2 December 2020

میرے سر آنکھوں پہ اے دوست ترا یہ ارشاد

 میرے سر آنکھوں پہ اے دوست ترا یہ ارشاد

کچھ بھی ہو زندہ رہو، شاد رہو یا ناشاد

نقش بن جاتی ہے ٹوٹے ہوئے تارے کی طرح

جب بھی پردیس میں آتی ہے مجھے دیس کی یاد

ان میں تو خونِ چمن ساز رواں تھا کل تک

آج جن ہاتھوں سے ہوتا ہے گلستاں برباد

Sunday, 6 September 2020

ہزار باتیں ہیں دل میں ابھی سنانے کو

ہزار باتیں ہیں دل میں ابھی سنانے کو
مگر زباں نہیں ملتی ہمیں بتانے کو
وہ آنکھیں آج ستارے تراشتی دیکھیں
جنہوں نے رنگ تبسم دیا زمانے کو
ہم اہلِ ظرف ابھی تک ہیں ایک جنسِ لطیف
جنہیں کچل دیا دنیا نے آزمانے کو

ترے حضور بھی جس کو قرار مل نہ سکا

ہلاکِ غمزہ سیاست شکار مل نہ سکا
کہ ایک دوسرے سے بر قرار مل نہ سکا
وہ نامراد بنا اک غلام دَیر و حرم
جسے تصورِ پروردگار مل نہ سکا
وہ نامرادِ سکوں جائے تو کہاں جائے
تِرے حضور بھی جس کو قرار مل نہ سکا

Friday, 14 October 2016

آدمی اک تضاد باہم ہے

آدمی اک تضادِ باہم ہے
کبھی جنت کبھی جہنم ہے
غم ہے اک نعمتِ خداوندی
جتنا برتو اسی قدر کم ہے
التفات آپ کا بجا،۔ لیکن
کیا خوشی ہے کہ آنکھ پُرنم ہے

دل کے معاملے میں فقط ہم ہی ہم نہیں

دل کے معاملے میں فقط ہم ہی ہم نہیں
وہ کون ہے یہاں جو گرفتارِ غم نہیں
مر کے بھی آستاں سے نہ سر اٹھائیں
عہدِ وفا ہے اپنا یہ تیری قسم نہیں
جو آیا، گفتگو کو ترستا چلا گیا
حالانکہ کوئے دوست ہے راہِ عدم نہیں

لوگ کہتے ہیں عبادت کو بھلا رکھا ہے

لوگ کہتے ہیں عبادت کو بھلا رکھا ہے
اپنے سجدوں میں تمہیں ہم نے سجا رکھا ہے
ہر ستم ہم کو گوارا ہے ہر اک غم ہے قبول
ہم نے دل زخموں سے گلزار بنا رکھا ہے
دل سے جاتا ہی نہیں وعدۂ اولیٰ کا خیال
ورنہ ان ٹوٹے ہوئے وعدوں میں کیا رکھا ہے

جیسے وہ تمکا چاہت ہیں

سوکن

جیسے وہ تم کا چاہت ہیں
ہم کا بھی چاہت تھے
نین جوت جلاوت تھے
نردوہی سے کیسے کہن ہم
اک دن ایسا آوے گا
تمرا دل بھی ترسے گا
جب آنکھ سے ساون برسے گا