عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلامئ ماہِ محرم کا احترام کرو
نبیِؐ کی آلؑ کے پُرسے کا انتظام کرو
زبان کافی نہیں اعترافِ حق کے لیے
حُسینیت کا کُھلے دل سے احترام کرو
سوائے رب کے جُھکے سر نہ غیر کے آگے
یہ عزمِ شاہِ شہیدانؑ ہے اس کو عام کرو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلامئ ماہِ محرم کا احترام کرو
نبیِؐ کی آلؑ کے پُرسے کا انتظام کرو
زبان کافی نہیں اعترافِ حق کے لیے
حُسینیت کا کُھلے دل سے احترام کرو
سوائے رب کے جُھکے سر نہ غیر کے آگے
یہ عزمِ شاہِ شہیدانؑ ہے اس کو عام کرو
حقارت سے نہ دیکھو دل کو جامِ جم بھی کہتے ہیں
اسی خاکِ تپاں کو فاتحِ عالم بھی کہتے ہیں
یہ دل کی داستانِ مضطرب ہے جس کو دنیا میں
کہیں آنسو، کہیں موتی، کہیں شبنم بھی کہتے ہیں
کبھی کے اک تبسم کو سجا رکھا ہے ہونٹوں پر
بہت سے تو اسے پروردۂ ماتم بھی کہتے ہیں
جو بات منہ سے نکالیں تو جرم ہے اپنا
لہو کو راگ بنا لیں تو جرم ہے اپنا
حیا سے نیچی نگاہوں کو بند رکھنا ہے
نظر کبھی جو اٹھا لیں تو جرم ہے اپنا
لبوں پہ مہر ہو، دل لاکھ ٹکڑے ٹکڑے ہو
زباں سے حرف نکالیں تو جرم ہے اپنا
محبت میں سکوں محرومیوں کے بعد آتا ہے
کہ جب ہر آسرا مٹ جائے تب دل چین پاتا ہے
خود اپنا ہی لہو آواز کو رنگیں بناتا ہے
کچل جاتا ہے جب دل تب کہیں نغمہ سُناتا ہے
یہ کیا جبر مشیّت ہے، یہ کیا جبرِ صداقت ہے
کہ جس کو ہم بھلانا چاہتے ہیں، یاد آتا ہے
یہ دستورِ دنیا سمجھ میں نہ آئے
کہ جو زخم کھائے وہی مسکرائے
برا وقت یا رب کسی پہ نہ آئے
کہ اپنے بھی ہوتے ہیں اس میں پرائے
حضوری بھی دھوکا ہے، دوری بھی دھوکا
بہت دور نکلے جو نزدیک آئے
غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے
ترس گئے ہیں محبت کی زندگی کے لیے
کلی تبسم بے ساختہ سے پھول بنی
یہ لمحہ کافی ہے اب پوری زندگی کے لیے
غروبِ مہر پہ کس نے لہو چڑھایا ہے
یہ کس نے خون جلایا ہے روشنی کے لیے
لے کے یادوں کے آج نذرانے
اے وطن آئے تیرے دیوانے
کوئی گلشن پرست کیا جانے
پھول میں کس قدر ہیں ویرانے
ہم کو جو کچھ دیا ہے دنیا نے
ہم سمجھتے ہیں یا خدا جانے
بڑھے چلو کہ تھکن تو نشے کی محفل ہے
ابھی تو دور، بہت دور اپنی منزل ہے
یہ بے قرار تبسم، ترے لبوں کا فسوں
یہی تو چاک گریباں کی پہلی منزل ہے
کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی
خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے
میرے سر آنکھوں پہ اے دوست ترا یہ ارشاد
کچھ بھی ہو زندہ رہو، شاد رہو یا ناشاد
نقش بن جاتی ہے ٹوٹے ہوئے تارے کی طرح
جب بھی پردیس میں آتی ہے مجھے دیس کی یاد
ان میں تو خونِ چمن ساز رواں تھا کل تک
آج جن ہاتھوں سے ہوتا ہے گلستاں برباد