Saturday, 19 December 2020

غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے

 غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے

ترس گئے ہیں محبت کی زندگی کے لیے

کلی تبسم بے ساختہ سے پھول بنی

یہ لمحہ کافی ہے اب پوری زندگی کے لیے

غروبِ مہر پہ کس نے لہو چڑھایا ہے

یہ کس نے خون جلایا ہے روشنی کے لیے

یہ کیسی دل کی لگی ہے کہ اپنی عمرِ عزیز

مٹائے دیتے ہیں ہم ایک اجنبی کے لیے

خود اپنے جیسا ہی انسان زندگی مانگے

یہ کیسا وقتِ خدائی ہے آدمی کے لیے

ابھی نہ توڑو امیدِ وفا کے پھولوں کو

مجھے تو ان کا بھروسہ تھا زندگی کے لیے


سحاب قزلباش

No comments:

Post a Comment