Showing posts with label امردیپ سنگھ. Show all posts
Showing posts with label امردیپ سنگھ. Show all posts

Saturday, 22 November 2025

تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں

 تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں

بعد تیرے بس تری باتیں زباں پر رہ گئیں

پہلے تیری ذات کا پیکر کہیں پر گم ہوا

اور نہ جانے پھر تری یادیں کہاں پر رہ گئیں

آج پھر ایسا ہوا جب سوچ کر تجھ کو اے دوست

آسماں تکتی نگاہیں، آسماں پر رہ گئیں

Tuesday, 11 November 2025

تمہاری یاد سے نکلی اداسی

 تمہاری یاد سے نکلی اداسی

مجھے تسلیم ہے ایسی اداسی

ملن وہ آخری بھولا نہ اپنا

نہ اس کے بعد کی پہلی اداسی

سمندر سے بھی گہرا دل ہمارا

ہمارے دل سے بھی گہری اداسی

Monday, 30 December 2024

نشاط درد کا دریا اترنے والا ہے

 نشاطِ درد کا دریا اترنے والا ہے

میں اس سے اور وہ مجھ سے ابھرنے والا ہے

میں اس کی نرم نگاہی سے ہو گیا مایوس

وہ میری سادہ دلی سے مُکرنے والا ہے

وہ میرے عشق میں دیوانہ وار پھرنے لگے

یہ معجزہ تو فقط فرض کرنے والا ہے

Tuesday, 26 November 2024

چہرے پر اک چہرہ لگانا سیکھ لیا

 چہرے پر اک چہرہ لگانا سیکھ لیا

آخر ہم نے طور زمانا سیکھ لیا

کب تک تجھ کو زحمت ہو کترانے کی

ہم نے بھی اب آنکھ چرانا سیکھ لیا

ہائے تم تو دل سے ملنے والے تھے

تم نے کب سے ہاتھ ملانا سیکھ لیا