تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں
بعد تیرے بس تری باتیں زباں پر رہ گئیں
پہلے تیری ذات کا پیکر کہیں پر گم ہوا
اور نہ جانے پھر تری یادیں کہاں پر رہ گئیں
آج پھر ایسا ہوا جب سوچ کر تجھ کو اے دوست
آسماں تکتی نگاہیں، آسماں پر رہ گئیں
تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں
بعد تیرے بس تری باتیں زباں پر رہ گئیں
پہلے تیری ذات کا پیکر کہیں پر گم ہوا
اور نہ جانے پھر تری یادیں کہاں پر رہ گئیں
آج پھر ایسا ہوا جب سوچ کر تجھ کو اے دوست
آسماں تکتی نگاہیں، آسماں پر رہ گئیں
تمہاری یاد سے نکلی اداسی
مجھے تسلیم ہے ایسی اداسی
ملن وہ آخری بھولا نہ اپنا
نہ اس کے بعد کی پہلی اداسی
سمندر سے بھی گہرا دل ہمارا
ہمارے دل سے بھی گہری اداسی
نشاطِ درد کا دریا اترنے والا ہے
میں اس سے اور وہ مجھ سے ابھرنے والا ہے
میں اس کی نرم نگاہی سے ہو گیا مایوس
وہ میری سادہ دلی سے مُکرنے والا ہے
وہ میرے عشق میں دیوانہ وار پھرنے لگے
یہ معجزہ تو فقط فرض کرنے والا ہے
چہرے پر اک چہرہ لگانا سیکھ لیا
آخر ہم نے طور زمانا سیکھ لیا
کب تک تجھ کو زحمت ہو کترانے کی
ہم نے بھی اب آنکھ چرانا سیکھ لیا
ہائے تم تو دل سے ملنے والے تھے
تم نے کب سے ہاتھ ملانا سیکھ لیا