کاش
مرے سینے پہ سر رکھ کر
تم نے جو محبت کا احساس دیا ہے
مجھے لگتا ہے جیسے
محبت کے مہکتے ہوئے آنگن کا
کوئی کھلتا گلاب ہوں میں
کاش
مرے سینے پہ سر رکھ کر
تم نے جو محبت کا احساس دیا ہے
مجھے لگتا ہے جیسے
محبت کے مہکتے ہوئے آنگن کا
کوئی کھلتا گلاب ہوں میں
اس بار محبت رہنے دو
اس بار ہمارے دامن میں
اک زخم نے آنکھیں کھولی ہیں
اس بار نگاہیں بھیگی بھیگی
بہت تڑپ کے تم سے بولی ہیں
اس بار ہے دل کچھ ٹوٹا ٹوٹا
کچھ ضبط کا دامن چھوٹا چھوٹا
کہاں ہو تم
ہم نے مل کر
محبتوں کے سمندروں پہ سفر کیا ہے
ہر ایک خواہش کے ہر جزیرے پہ
ہم رکے ہیں
گداز جذبوں کی وادیوں میں پڑاؤ ڈالے
کس قدر کھٹن ہیں یہ راستے محبت کے
ختم کیوں نہیں ہوتے فاصلے محبت کے
ہر طرف وفاؤں کے عکس جھلملاتے ہیں
ٹوٹ ہی نہ جائیں یہ آئینے محبت کے
ہم نے آزمائش کی ہر گھڑی کو تھاما ہے
ہم پہ جان دیتے ہیں ضابطے محبت کے
ہر طرف سنائی دے شام کی اُداسی میں
تُو مجھے دکھائی دے شام کی اداسی میں
ہر طرف جدائی کے منظروں میں آتے ہو
اب مجھے رہائی دے شام کی اداسی میں
جسم جلنے لگتا ہے چاندنی کی ٹھنڈک سے
کاش مجھے جدائی دے شام کی اداسی میں