اس بار محبت رہنے دو
اس بار ہمارے دامن میں
اک زخم نے آنکھیں کھولی ہیں
اس بار نگاہیں بھیگی بھیگی
بہت تڑپ کے تم سے بولی ہیں
اس بار ہے دل کچھ ٹوٹا ٹوٹا
کچھ ضبط کا دامن چھوٹا چھوٹا
اس بار نہیں کچھ پہلے سا
اس بار صبر نے حد کر دی
اس بار تھکے ہو تم بھی کچھ
اس بار تمہیں بھی سونا ہے
جیسے میں تڑپا ہوں لمحہ لمحہ
اس بار تمہیں بھی رونا ہے
اس بار ارادے بدلیں گے
سب قسمیں وعدے بدلیں گے
اس بار سِسکتی آہوں میں
کچھ درد پرانے لکھیں گے
ہاں اپنی محبت کے جاناں
ہم سارے فسانے لکھیں گے
اس بار غزل میں شعروں میں
وہ گزرے زمانے لکھیں گے
اس بار ہوائیں چیخیں گی
اس بار یہ بارش روئے گی
اس بار تنہائیاں سلگیں گی
اس بار ہمیں سب کہنے دو
ہر دردِ جدائی سہنے دو
اس بار نہ پونچھو تم آنسو
انہیں بہنا ہے انہیں بہنے دو
اس بار محبت رہنے دو
بلال اسلم
No comments:
Post a Comment