Saturday, 15 January 2022

اس بار محبت رہنے دو

اس بار محبت رہنے دو


 اس بار ہمارے دامن میں

اک زخم نے آنکھیں کھولی ہیں

اس بار نگاہیں بھیگی بھیگی

بہت تڑپ کے تم سے بولی ہیں

اس بار ہے دل کچھ ٹوٹا ٹوٹا

کچھ ضبط کا دامن چھوٹا چھوٹا

اس بار نہیں کچھ پہلے سا

اس بار صبر نے حد کر دی

اس بار تھکے ہو تم بھی کچھ

اس بار تمہیں بھی سونا ہے

جیسے میں تڑپا ہوں لمحہ لمحہ

اس بار تمہیں بھی رونا ہے

اس بار ارادے بدلیں گے

سب قسمیں وعدے بدلیں گے

اس بار سِسکتی آہوں میں

کچھ درد پرانے لکھیں گے

ہاں اپنی محبت کے جاناں

ہم سارے فسانے لکھیں گے

اس بار غزل میں شعروں میں

وہ گزرے زمانے لکھیں گے

اس بار ہوائیں چیخیں گی

اس بار یہ بارش روئے گی

اس بار تنہائیاں سلگیں گی

اس بار ہمیں سب کہنے دو

ہر دردِ جدائی سہنے دو

اس بار نہ پونچھو تم آنسو

انہیں بہنا ہے انہیں بہنے دو

اس بار محبت رہنے دو


بلال اسلم

No comments:

Post a Comment