نہ جانے کیسی ہوا چلی ہے کہ شہر سارا بدل گیا ہے
کسی کی آنکھیں بدل گئی ہیں، کسی کا چہرہ بدل گیا ہے
حسین دن تھے جمیل راتیں، نہ ختم ہوتی تھیں اپنی باتیں
عجیب چپ سی ٹہر گئی ہے، وہ جب سے چہرہ بدل گیا ہے
فضائیں بے نورہو رہی ہیں، ہوائیں چپ چاپ رو رہی ہیں
بس اک جدائی سے اپنے گھر کا تمام نقشہ بدل گیا ہے