Showing posts with label اختر ملک. Show all posts
Showing posts with label اختر ملک. Show all posts

Wednesday, 18 August 2021

نہ جانے کیسی ہوا چلی ہے کہ شہر سارا بدل گیا ہے

 نہ جانے کیسی ہوا چلی ہے کہ شہر سارا بدل گیا ہے

کسی کی آنکھیں بدل گئی ہیں، کسی کا چہرہ بدل گیا ہے

حسین دن تھے جمیل راتیں، نہ ختم ہوتی تھیں اپنی باتیں

عجیب چپ سی ٹہر گئی ہے، وہ جب سے چہرہ بدل گیا ہے

فضائیں بے نورہو رہی ہیں، ہوائیں چپ چاپ رو رہی ہیں

بس اک جدائی سے اپنے گھر کا تمام نقشہ بدل گیا ہے

Sunday, 11 April 2021

بے سبب تو نہیں کھڑے ہوئے ہیں

 بے سبب تو نہیں کھڑے ہوئے ہیں

پاؤں زنجیر میں پڑے ہوئے ہیں

دھوپ چھاؤں سے تو ڈرا نہ ہمیں

ہم اسی کھیل میں بڑے ہوئے ہیں

خوف آنے لگا ہے خود سے بھی

فیصلے چار کیا کڑے ہوئے ہیں

Thursday, 1 April 2021

ہو سکے تو رکھو سنبھال کے دکھ

 ہو سکے تو رکھو سنبھال کے دُکھ

کیا کرو گے مِرے اچھال کے دکھ

رتی بھر بھی نہیں ملاوٹ کی

سارے دکھ ہیں مِرے حلال کے دکھ

گھر میں آئی ہے پھر یہ خوشحالی

میں نے بیچے ہیں ماہ و سال کے دکھ

Tuesday, 30 March 2021

رہتے ہیں کہیں اور مکاں اور کہیں ہے

 رہتے ہیں کہیں اور مکاں اور کہیں ہے

ہم مست الستوں کا جہاں اور کہیں ہے

ہم لوگ بہت دُور تلک بکھرے ہوئے ہیں

دل اپنا کہیں اور ہے جاں اور کہیں ہے

اس بار تو دشمن بھی اناڑی ہے بلا کا

ہے زخم کہیں اور نشاں اور کہیں ہے

Sunday, 21 February 2021

تم ان لوگوں میں شامل ہو

 تم ان لوگوں میں شامل ہو

جو ساتھ رہیں تو دنیا کی

ہر چیز اضافی لگتی ہے

جو بات گوارا مشکل ہو

وہ قابلِ معافی لگتی ہے

دم بھر کی قربت بھی جن کی

Saturday, 12 December 2020

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

 کبھی عشق ہو تو پتہ چلے


یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پسِ دوستاں

تو یہ کون ہیں؟

یہ جو روگ سے ہیں پڑے ہوئے پسِ جسم و جاں

تو یہ کس لیے؟

یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے

تو یہ کیوں بھلا؟

Friday, 11 December 2020

دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے

اسے میں نے ہی لکھا تھا


اسے میں نے ہی لکھا تھا

کہ لہجے برف ہو جائیں

تو پھر پگھلا نہیں کرتے

پرندے ڈر کے اڑ جائیں

تو پھر لوٹا نہیں کرتے

جب میں خوش پوش جواں تھا تو کہاں تھا

 جب میں خوش پوش جواں تھا تُو کہاں تھا

پاس اسباب دل و جاں تھا، تو کہاں تھا

اب تو پتھر بھی ہوئے دل کو زمانہ گزرا

جب یہ شیشے کا مکاں تھا، تو کہاں تھا

اب تو آدھا بھی ترے ہاتھ نہ آ پاؤں گا

جب میں سارا ہی وہاں تھا، تو کہاں تھا

Tuesday, 8 December 2020

ماں باپ کے قدموں کے نشاں بیچ گئے ہیں

 ماں باپ کے قدموں کے نشاں بیچ گئے ہیں

بھائی مِرے، ورثے کا مکاں بیچ گئے ہیں

کچھ لوگ چراغوں کو دھواں بیچ گئے ہیں

حیران ہوں کیا چیز کہاں بیچ گئے ہیں

پہلے میں سمجھتا تھا زمیں کچھ نہیں لگتی

چھوڑ آئے تو چنتا ہے کہ ماں بیچ گئے ہیں

Thursday, 28 June 2012

اک بار جو بچھڑے، وہ دوبارہ نہیں ملتا

 اک بار جو بچھڑے، وہ دوبارہ نہیں ملتا

مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا

اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت

جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا

پھر ڈوبنا، یہ بات بہت سوچ لو پہلے

ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا