Wednesday, 18 August 2021

نہ جانے کیسی ہوا چلی ہے کہ شہر سارا بدل گیا ہے

 نہ جانے کیسی ہوا چلی ہے کہ شہر سارا بدل گیا ہے

کسی کی آنکھیں بدل گئی ہیں، کسی کا چہرہ بدل گیا ہے

حسین دن تھے جمیل راتیں، نہ ختم ہوتی تھیں اپنی باتیں

عجیب چپ سی ٹہر گئی ہے، وہ جب سے چہرہ بدل گیا ہے

فضائیں بے نورہو رہی ہیں، ہوائیں چپ چاپ رو رہی ہیں

بس اک جدائی سے اپنے گھر کا تمام نقشہ بدل گیا ہے

اب اپنی منزل نہیں ہے کوئی، اب اپنا رستہ نہیں ہے کوئی

کسی سے منزل بدل گئی ہے، کسی سے رستہ بدل گیا ہے

نظر سے گزرے تو دیکھ لینا، جو یاد آئے سوچ لینا

کبھی تو شک سا گزرنے لگتا ہے جیسے رشتہ بدل گیا ہے

کبھی تو یوں تھا کہ ہر ایک ساعت ملال رہتا تھا دوریوں پہ

اور اب یہ عالم ہے زندگانی کا لمحہ لمحہ بدل گیا یے

کئی دنوں سے اسے ہم اختر عجیب حلیے میں دیکھتے ہیں

کہ جسم سارا اسی طرح ہے بس ایک چہرہ بدل گیا ہے


اختر ملک

No comments:

Post a Comment