Showing posts with label راشد طراز. Show all posts
Showing posts with label راشد طراز. Show all posts

Friday, 19 December 2025

رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام

بنا دیا ہے، اسے حق نے روشنی کا امام

میں کیوں نہ چوموں گا آنکھوں سے اس کا نام وجود

وہی ازل سے ہے آداب بندگی کا امام

ظہور اس کے لیے ہی ہوا نظام خدا

وہی جو دہر میں ثابت ہوا خودی کا امام

Thursday, 1 September 2022

کون فریاد کسی کی بھی یہاں سنتا ہے

 کون فریاد کسی کی بھی یہاں سنتا ہے

اک تصور ہے جو بس دل کی زباں سنتا ہے

سن لیا کرتے ہیں سب اہلِ وفا میری، مگر

جس کو سننا ہے ابھی تک وہ کہاں سنتا ہے

نامرادانہ صدا لوٹ گئی بھی ہے تو کیا

روح کو سلسلۂ کون و مکاں سنتا ہے

Monday, 14 June 2021

کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے

 کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے

آئینہ اپنی فراست سے مجھے دیکھتا ہے

جب سے اترے ہیں مِرے دل پہ یہ آلام زمیں

آسماں جھک کے رفاقت سے مجھے دیکھتا ہے

میں گنہ گار ہوں آنکھوں میں ابھی تک اپنی

جانے وہ کس کی نیابت سے مجھے دیکھتا ہے

Wednesday, 5 May 2021

کبھی یوں بھی کرو شہر گماں تک لے چلو مجھ کو

 کبھی یوں بھی کرو شہرِ گماں تک لے چلو مُجھ کو

جہاں تک روشنی ہے تم وہاں تک لے چلو مجھ کو

بھٹکتا جا رہا ہوں، راہ رو ملتا نہیں کوئی

غبارِ راہ! میرے کارواں تک لے چلو مجھ کو

غمِ آوارگی سے میں شکستہ ہوتا جاتا ہوں

پرندو! تم ہی اپنے آشیاں تک لے چلو مجھ کو

Saturday, 1 May 2021

زندگی تھی یہ تماشا تو نہیں تھا پہلے

 زندگی تھی یہ تماشا تو نہیں تھا پہلے

آدمی اتنا بھی تنہا تو نہیں تھا پہلے

ہر طرف شمعِ محبت کے اُجالے تھے یہاں

صورتیں تھیں یہ اندھیرا تو نہیں تھا پہلے

داؤ پر جذبۂ اُلفت کو لگا دیتے تھے لوگ

پھر بھی دل اتنا شکستہ تو نہیں تھا پہلے

یقیں سے پھوٹتی ہے یا گماں سے آتی ہے

 یقیں سے پھُوٹتی ہے یا گُماں سے آتی ہے

یہ دل میں روشنی آخر کہاں سے آتی ہے

مکاں جلے ہیں مکینوں کے قتل عام کے بعد

مہک لہو کی اُمنڈتے دھواں سے آتی ہے

پیام لاتی ہے اوجِ فراق کا مجھ تک

ہوا جو مل کے مِرے مہرباں سے آتی ہے

Friday, 23 April 2021

روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا

 روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا

دشت تنہائی سے کیا خوب گزر ہم نے کیا

بندش ہجر کو توڑا نہیں تُو نے آ کر

یاد کیا تجھ کو نہیں شام و سحر ہم نے کیا

اک بیاباں بھی مِلا منتظر نورِ ازل

دل کی ویرانی کو جب پیشِ نظر ہم نے کیا

Friday, 20 November 2020

ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو

 ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو

ڈراتا رہتا ہے اپنا ہی آئینہ مجھ کو

میں کس فسانے کا حصہ ہوں کہہ نہیں سکتا

وجود اپنا بھی لگتا ہے واقعہ مجھ کو

اب آسماں کی چلو حد تلاش کی جائے

بلا رہا ہے ستاروں کا قافلہ مجھ کو