عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام
بنا دیا ہے، اسے حق نے روشنی کا امام
میں کیوں نہ چوموں گا آنکھوں سے اس کا نام وجود
وہی ازل سے ہے آداب بندگی کا امام
ظہور اس کے لیے ہی ہوا نظام خدا
وہی جو دہر میں ثابت ہوا خودی کا امام
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام
بنا دیا ہے، اسے حق نے روشنی کا امام
میں کیوں نہ چوموں گا آنکھوں سے اس کا نام وجود
وہی ازل سے ہے آداب بندگی کا امام
ظہور اس کے لیے ہی ہوا نظام خدا
وہی جو دہر میں ثابت ہوا خودی کا امام
کون فریاد کسی کی بھی یہاں سنتا ہے
اک تصور ہے جو بس دل کی زباں سنتا ہے
سن لیا کرتے ہیں سب اہلِ وفا میری، مگر
جس کو سننا ہے ابھی تک وہ کہاں سنتا ہے
نامرادانہ صدا لوٹ گئی بھی ہے تو کیا
روح کو سلسلۂ کون و مکاں سنتا ہے
کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے
آئینہ اپنی فراست سے مجھے دیکھتا ہے
جب سے اترے ہیں مِرے دل پہ یہ آلام زمیں
آسماں جھک کے رفاقت سے مجھے دیکھتا ہے
میں گنہ گار ہوں آنکھوں میں ابھی تک اپنی
جانے وہ کس کی نیابت سے مجھے دیکھتا ہے
کبھی یوں بھی کرو شہرِ گماں تک لے چلو مُجھ کو
جہاں تک روشنی ہے تم وہاں تک لے چلو مجھ کو
بھٹکتا جا رہا ہوں، راہ رو ملتا نہیں کوئی
غبارِ راہ! میرے کارواں تک لے چلو مجھ کو
غمِ آوارگی سے میں شکستہ ہوتا جاتا ہوں
پرندو! تم ہی اپنے آشیاں تک لے چلو مجھ کو
زندگی تھی یہ تماشا تو نہیں تھا پہلے
آدمی اتنا بھی تنہا تو نہیں تھا پہلے
ہر طرف شمعِ محبت کے اُجالے تھے یہاں
صورتیں تھیں یہ اندھیرا تو نہیں تھا پہلے
داؤ پر جذبۂ اُلفت کو لگا دیتے تھے لوگ
پھر بھی دل اتنا شکستہ تو نہیں تھا پہلے
یقیں سے پھُوٹتی ہے یا گُماں سے آتی ہے
یہ دل میں روشنی آخر کہاں سے آتی ہے
مکاں جلے ہیں مکینوں کے قتل عام کے بعد
مہک لہو کی اُمنڈتے دھواں سے آتی ہے
پیام لاتی ہے اوجِ فراق کا مجھ تک
ہوا جو مل کے مِرے مہرباں سے آتی ہے
روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا
دشت تنہائی سے کیا خوب گزر ہم نے کیا
بندش ہجر کو توڑا نہیں تُو نے آ کر
یاد کیا تجھ کو نہیں شام و سحر ہم نے کیا
اک بیاباں بھی مِلا منتظر نورِ ازل
دل کی ویرانی کو جب پیشِ نظر ہم نے کیا
ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو
ڈراتا رہتا ہے اپنا ہی آئینہ مجھ کو
میں کس فسانے کا حصہ ہوں کہہ نہیں سکتا
وجود اپنا بھی لگتا ہے واقعہ مجھ کو
اب آسماں کی چلو حد تلاش کی جائے
بلا رہا ہے ستاروں کا قافلہ مجھ کو