Friday, 23 April 2021

روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا

 روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا

دشت تنہائی سے کیا خوب گزر ہم نے کیا

بندش ہجر کو توڑا نہیں تُو نے آ کر

یاد کیا تجھ کو نہیں شام و سحر ہم نے کیا

اک بیاباں بھی مِلا منتظر نورِ ازل

دل کی ویرانی کو جب پیشِ نظر ہم نے کیا

اور کچھ ہو نہ سکا صورتِ درماں لیکن

اپنا دامن تو سرِ دیدۂ تر ہم نے کیا

درد کے مارے ہوئے لوگ تھے خوابوں کے قریب

کیسے نادیدہ زمانوں کا سفر ہم نے کیا

ہم نے دیکھا ہے وہاں پھر بھی اُجالا راشد

ساتھ رہتے ہوئے سب کے جہاں گھر ہم نے کیا


راشد طراز

No comments:

Post a Comment