تم خاص پلاتے تھے جو عام نہیں ملتا
ہاں جام تو ملتا ہے، وہ جام نہیں ملتا
گلیوں میں بھٹکتا ہے، بد راہ ہے دل ایسا
اس صبح کے بُھولے کو، گھر شام نہیں ملتا
کچھ عشق کرو صاحب، کچھ نام دھرو صاحب
گھر بیٹھنے والوں کو الزام نہیں ملتا
تم خاص پلاتے تھے جو عام نہیں ملتا
ہاں جام تو ملتا ہے، وہ جام نہیں ملتا
گلیوں میں بھٹکتا ہے، بد راہ ہے دل ایسا
اس صبح کے بُھولے کو، گھر شام نہیں ملتا
کچھ عشق کرو صاحب، کچھ نام دھرو صاحب
گھر بیٹھنے والوں کو الزام نہیں ملتا
پھر سے دید و شنید ہو جائے
دل سراپا اُمید ہو جائے
دُور ہوتا گیا ہے وہ ہم سے
جیسے ماضی بعید ہو جائے
اس کی قسمت پہ رشک جو اپنی
جستجو میں شہید ہو جائے
مسکراہٹ ادھار دینا ذرا
کچھ ستارے خریدنے ہیں مجھے
ایک آنسو کا مول کیا لو گے؟
آج سارے خریدنے ہیں مجھے
بول تتلی کے دام کتنے ہیں؟
رنگ پیارے خریدنے ہیں مجھے
اپنے پیارے ساتھ چلیں تو
رستے منزِل ہو جاتے ہیں
چھوڑو مے اور میخانوں کو
ہم تم محفل ہو جاتے ہیں
وقت پہ گر نہ آنکھ کھلے تو
سپنے قاتل ہو جاتے ہیں
اتحاد، ایمان، نظم
کٹھن ہے بہت راہِ حق کی مسافت
بہت متحد ہو کے چلنا پڑے گا
وہ ایمان جس سے جلائے نہ آتش
اس ایماں کی خاطر بھی جلنا پڑے گا
بدل دیں نہ تم کو زمانے کی رسمیں
تمہیں نظمِ دنیا بدلنا پڑے گا
الا ماشاء اللہ
دِین ہو کہ دنیا ہو
کھیل ہو تماشا ہو
شاعری کی محفل ہو
اہلِ فن کا مجمع ہو
لیڈ کرنے والوں میں
جلسۂ صدارت کی
ہر پل دلِ ناشاد تجھے یاد کرے ہے
بسمل تِرا حسرت تِری صیاد کرے ہے
لٹکا ہوا زنجیر سے ملتا ہے محل میں
اس دور میں مظلوم جو فریاد کرے ہے
ملتا ہے درِ یار سے اکسیر کی صورت
وہ درد جو ہر درد سے آزاد کرے ہے
یہ جو دو چار تِرے پیار میں آ بیٹھے ہیں
گُل کے سودائی ہیں، گُلزار میں آ بیٹھے ہیں
بیچ اپنوں کے ہی کرتی ہے سیاست دنیا
ہم ہی ناداں ہیں جو اغیار میں آ بیٹھے ہیں
گُل سے مطلب نہیں، نالہ ہی خدا ہے ہم کو
چھوڑ گُلزار، سخن زار میں آ بیٹھے ہیں