Showing posts with label ابن منیب. Show all posts
Showing posts with label ابن منیب. Show all posts

Saturday, 26 June 2021

تم خاص پلاتے تھے جو عام نہیں ملتا

 تم خاص پلاتے تھے جو عام نہیں ملتا

ہاں جام تو ملتا ہے، وہ جام نہیں ملتا

گلیوں میں بھٹکتا ہے، بد راہ ہے دل ایسا

اس صبح کے بُھولے کو، گھر شام نہیں ملتا

کچھ عشق کرو صاحب، کچھ نام دھرو صاحب

گھر بیٹھنے والوں کو الزام نہیں ملتا

Friday, 25 June 2021

پھر سے دید و شنید ہو جائے

 پھر سے دید و شنید ہو جائے

دل سراپا اُمید ہو جائے

دُور ہوتا گیا ہے وہ ہم سے

جیسے ماضی بعید ہو جائے

اس کی قسمت پہ رشک جو اپنی

جستجو میں شہید ہو جائے

Saturday, 9 January 2021

مسکراہٹ ادھار دینا ذرا کچھ ستارے خریدنے ہیں مجھے

 مسکراہٹ ادھار دینا ذرا

کچھ ستارے خریدنے ہیں مجھے

ایک آنسو کا مول کیا لو گے؟

آج سارے خریدنے ہیں مجھے

بول تتلی کے دام کتنے ہیں؟

رنگ پیارے خریدنے ہیں مجھے

Friday, 8 January 2021

رستے منزل ہو جاتے ہیں

 اپنے پیارے ساتھ چلیں تو

رستے منزِل ہو جاتے ہیں

چھوڑو مے اور میخانوں کو

ہم تم محفل ہو جاتے ہیں

وقت پہ گر نہ آنکھ کھلے تو

سپنے قاتل ہو جاتے ہیں

Sunday, 3 January 2021

کٹھن ہے بہت راہ حق کی مسافت

 اتحاد، ایمان، نظم


کٹھن ہے بہت راہِ حق کی مسافت

بہت متحد ہو کے چلنا پڑے گا

وہ ایمان جس سے جلائے نہ آتش

اس ایماں کی خاطر بھی جلنا پڑے گا

بدل دیں نہ تم کو زمانے کی رسمیں

تمہیں نظمِ دنیا بدلنا پڑے گا

Saturday, 2 January 2021

دین ہو کہ دنیا ہو کھیل ہو تماشا ہو

 الا ماشاء اللہ


دِین ہو کہ دنیا ہو

کھیل ہو تماشا ہو

شاعری کی محفل ہو

اہلِ فن کا مجمع ہو

لیڈ کرنے والوں میں 

جلسۂ صدارت کی

ہر پل دل ناشاد تجھے یاد کرے ہے

 ہر پل دلِ ناشاد تجھے یاد کرے ہے

بسمل تِرا حسرت تِری صیاد کرے ہے

لٹکا ہوا زنجیر سے ملتا ہے محل میں

اس دور میں مظلوم جو فریاد کرے ہے

ملتا ہے درِ یار سے اکسیر کی صورت

وہ درد جو ہر درد سے آزاد کرے ہے

Thursday, 12 November 2020

یہ جو دو چار ترے پیار میں آ بیٹھے ہیں

 یہ جو دو چار تِرے پیار میں آ بیٹھے ہیں

گُل کے سودائی ہیں، گُلزار میں آ بیٹھے ہیں

بیچ اپنوں کے ہی کرتی ہے سیاست دنیا

ہم ہی ناداں ہیں جو اغیار میں آ بیٹھے ہیں

گُل سے مطلب نہیں، نالہ ہی خدا ہے ہم کو

چھوڑ گُلزار، سخن زار میں آ بیٹھے ہیں

Wednesday, 19 February 2014

برسوں کا تھما ساون

برسوں کا تھما ساون

دیکھا جو تمہیں پھر سے
اِک یاد اُٹھی دل میں
کالی سی گھٹا بن کر
فریاد اُٹھی دل میں
شوریدہ ہواؤں نے

اجازت: او جانے والے چلے ہی جانا ذرا رکو تو ذرا

اجازت

او جانے والے
چلے ہی جانا
ذرا رُکو تو 
ذرا، سُنو تو
تمہاری خاطر جو لمحہ لمحہ بکھرتے آنسو جمع کئے تھے

حساب کتاب: میری زندگی کی کتاب میں

حساب کتاب

میری زندگی کی کتاب میں
میرے روز و شب کے حساب میں
تیرا نام جتنے صفحوں پہ ہے
تیری یاد جتنی شبوں میں ہے
وہی چند صفحے ہیں متاعِ جان
اُنہی رتجگوں کا شمار ہے

خضر سے: کہا مشکل میں رہتا ہوں

خضرؑ سے
(مکالماتی نظم)

کہا مشکل میں رہتا ہوں
کہا آسان کر ڈالو
کہ جس کی چاہ زیادہ ہو
وہی قربان کر ڈالو

اقبال اور فرشتے: وہ دور آیا نہیں ابھی تک

اقبال اور فرشتے

وہ دور آیا، نہیں ابھی تک
نظام بدلا، نہیں ابھی تک
وہ کاخِ اُمراء، ہِلی نہیں ہے
غریب جاگا، نہیں ابھی تک
وہ میرا شاہیں، بے بال و پر ہے
پلٹ کے جھپٹا، نہیں ابھی تک

بے خودی بخدا بڑھے اس سے

بے خودی بَخدا بڑھے اِس سے
تیری خوشبو شراب لگتی ہے
اپنی قسمت پہ اب نہ چھوڑیں گے
اپنی قسمت خراب لگتی ہے
جن کو تڑپائے بھوک راتوں میں
ان کو روٹی عذاب لگتی ہے

جو ہوتی دیس میں عزت ہنر کی

جو ہوتی دیس میں عزت ہُنر کی
نہ کھاتے ٹھوکریں ہم در بدر کی
کہا مرتے ہوئے بیکس نے مجھ سے
سخاوت دیکھ لی تیرے نگر کی
جو حج میں ایک امت لگ رہی ہے
سنو اِس کی کہانی سال بھر کی

نشانہ آزمایا جا رہا ہے

نشانہ آزمایا جا رہا ہے
ہمیں ناحق ستایا جا رہا ہے
جلا کر چل دئیے جو آشیاں کو
انہیں پھر سے بلایا جا رہا ہے
جسے لکھا ہمارے دشمنوں نے
وہ نغمہ گنگنایا جا رہا ہے

کیسی تاویل مرے دوست بہانہ کیسا

کیسی تاوِیل مِرے دوست، بہانہ کیسا
زخم جاگیرِ محبت ہیں، چُھپانا کیسا
شِدّتِ لمس سے جلتا ہے بدن، جلنے دو
پہلوئے یار میں دامن کو بچانا کیسا
شعر در شعر ٹپکتا ہے قلم سے میرے
ڈھونڈ رکھا ہے تیرے غم نے ٹھکانا کیسا

Saturday, 7 December 2013

اے مظلومو اے محکومو

وصایا: فیض

اے مظلومو، اے محکومو، اے نادارو، اے ناچارو
اِک راز سنو، آواز سنو، ہوتا ہے کہاں آغاز سنو
خاموش لبوں کی جُنبش سے
دُنیا کے خُدا سب ڈرتے ہیں
سجدوں میں پڑے سر اُٹھ جائیں
مسنَد پہ جمے رَب ڈرتے ہیں