اپنے پیارے ساتھ چلیں تو
رستے منزِل ہو جاتے ہیں
چھوڑو مے اور میخانوں کو
ہم تم محفل ہو جاتے ہیں
وقت پہ گر نہ آنکھ کھلے تو
سپنے قاتل ہو جاتے ہیں
روتا ہے جب پھوٹ کے امبر
ہم بھی شامل ہو جاتے ہیں
ڈوب رہا ہے دیکھو کوئی
بڑھ کر ساحل ہو جاتے ہیں
جلدی منزِل چاہنے والے
جلدی بد دل ہو جاتے ہیں
دیکھیں جب وہ پیار سے صاحب
شکوے مشکل ہو جاتے ہیں
ابن منیب
نوید رزاق بٹ
No comments:
Post a Comment