Showing posts with label یاسین ضمیر. Show all posts
Showing posts with label یاسین ضمیر. Show all posts

Wednesday, 3 August 2022

میں تری راہ میں خلل شاید

 میں تِری راہ میں خلل شاید

تُو میرے مسئلے کا حل شاید

رات اٹکی ہوئی ہے آنکھوں میں

چاند میں پڑ گیا ہے بل شاید

زندگی کو کُرید کر دیکھو

مل ہی جائے خوشی کا پل شاید

Thursday, 28 July 2022

خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تم

 خدا را! آ کے مِری لو خبر کہاں ہو تم 

مِرے حبیب مِرے چارہ گر کہاں ہو تم 

نہ راستوں کی خبر اور نہ منزلوں کا پتہ 

کہاں میں جاؤں مِرے راہبر کہاں ہو تم 

اے باغ دل کے ملنسار باغبان ضعیف 

درخت دینے لگے ہیں ثمر کہاں ہو تم 

Wednesday, 27 July 2022

دوسرا چاند فلک پر وہ دکھائے تو سہی

 دوسرا چاند فلک پر وہ دکھائے تو سہی

تیرے جیسا ہی کوئی اور بنائے تو سہی

دیکھ لینا میں اسے خود میں کروں گا شامل

اس سے کہنا کہ گلے مجھ کو لگائے تو سہی

فی البدیہہ اس کو غزل لکھ کے نہ دوں تو کہنا

ایک مصرعہ وہ محبت کا سنائے تو سہی

سانس لیتے ہوئے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو

 سانس لیتے ہوئے ڈر جاتے ہو، حد کرتے ہو

سانس رکتی ہے تو مر جاتے ہو حد کرتے ہو

جب بھی آتے ہو تو خوشبو کی طرح آتے ہو

پھر ہواؤں میں بکھر جاتے ہو، حد کرتے ہو

تم تو ویسے ہی ستاروں سے حسیں ہو، لیکن

اس پہ تم اور سنور جاتے ہو، حد کرتے ہو

Sunday, 2 May 2021

میری بانہوں میں بس اک بار سمٹ کر جائے

 میری بانہوں میں بس اک بار سمٹ کر جائے

اس کو جانا ہے تو پھر مجھ سے لپٹ کر جائے

اس کا مطلب تو یہی ہے کہ جدا ہونا ہے

جب کوئی جاتے ہوئے جام اُلٹ کر جائے

میرے چہرے کو بھی تفصیل سے پڑھ لے کوئی

جلدی جلدی نہ ورق ایسے پلٹ کر جائے