میں تِری راہ میں خلل شاید
تُو میرے مسئلے کا حل شاید
رات اٹکی ہوئی ہے آنکھوں میں
چاند میں پڑ گیا ہے بل شاید
زندگی کو کُرید کر دیکھو
مل ہی جائے خوشی کا پل شاید
میں تِری راہ میں خلل شاید
تُو میرے مسئلے کا حل شاید
رات اٹکی ہوئی ہے آنکھوں میں
چاند میں پڑ گیا ہے بل شاید
زندگی کو کُرید کر دیکھو
مل ہی جائے خوشی کا پل شاید
خدا را! آ کے مِری لو خبر کہاں ہو تم
مِرے حبیب مِرے چارہ گر کہاں ہو تم
نہ راستوں کی خبر اور نہ منزلوں کا پتہ
کہاں میں جاؤں مِرے راہبر کہاں ہو تم
اے باغ دل کے ملنسار باغبان ضعیف
درخت دینے لگے ہیں ثمر کہاں ہو تم
دوسرا چاند فلک پر وہ دکھائے تو سہی
تیرے جیسا ہی کوئی اور بنائے تو سہی
دیکھ لینا میں اسے خود میں کروں گا شامل
اس سے کہنا کہ گلے مجھ کو لگائے تو سہی
فی البدیہہ اس کو غزل لکھ کے نہ دوں تو کہنا
ایک مصرعہ وہ محبت کا سنائے تو سہی
سانس لیتے ہوئے ڈر جاتے ہو، حد کرتے ہو
سانس رکتی ہے تو مر جاتے ہو حد کرتے ہو
جب بھی آتے ہو تو خوشبو کی طرح آتے ہو
پھر ہواؤں میں بکھر جاتے ہو، حد کرتے ہو
تم تو ویسے ہی ستاروں سے حسیں ہو، لیکن
اس پہ تم اور سنور جاتے ہو، حد کرتے ہو
میری بانہوں میں بس اک بار سمٹ کر جائے
اس کو جانا ہے تو پھر مجھ سے لپٹ کر جائے
اس کا مطلب تو یہی ہے کہ جدا ہونا ہے
جب کوئی جاتے ہوئے جام اُلٹ کر جائے
میرے چہرے کو بھی تفصیل سے پڑھ لے کوئی
جلدی جلدی نہ ورق ایسے پلٹ کر جائے