Showing posts with label عمران انجم. Show all posts
Showing posts with label عمران انجم. Show all posts

Saturday, 23 September 2023

کروں گا کیوں کوئی سمجھوتہ اب اصولوں سے

 کروں گا کیوں کوئی سمجھوتہ اب اصولوں سے

میں آشنا ہوں محبت کے جب اصولوں سے

انا کا دخل ہی ہوتا نہیں محبت میں

چمٹ کے بیٹھے ہو تم بے سبب اصولوں سے

کہیں پہ کوئی سمجھتا ہے سب اصول فضول

کہیں پہ لڑتا ہے اک جاں بلب اصولوں سے

Wednesday, 21 June 2023

جب درد کی زبان میں کچھ بولتے ہیں ہم

 جب درد کی زبان میں کچھ بولتے ہیں ہم

بہری سماعتوں میں بھی رس گھولتے ہیں ہم

ہوتی ہیں کائنات کی سانسیں بھی مُشک بُو

بابِ گُلِ اُمید کو جب کھولتے ہیں ہم

سادہ دلی سے کھائے ہیں دھوکے قدم قدم

ہر آدمی کو پہلے نہیں تولتے ہیں ہم

Thursday, 15 June 2023

گھروں کو اپنے چھوڑ کر نکل رہے ہیں شوق سے

 گھروں کو اپنے چھوڑ کر نکل رہے ہیں شوق سے

مُسافرت پسند ہیں، سو چل رہے ہیں شوق سے

نہیں کسی پہ جبر ہے، سب اپنے اپنے راستے

بدل گئے ہیں شوق سے، بدل رہے ہیں شوق سے

یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں دلوں میں جن کے سوگ ہیں

زہر کی گولیاں بھی وہ نِگل رہے ہیں شوق سے

Tuesday, 13 June 2023

تھوڑی سی آگ پھر وہ محبت میں ڈالے گا

 تھوڑی سی آگ پھر وہ محبت میں ڈالے گا

اس بار اک نئی وہ مصیت میں ڈالے گا

قاصد ملا ہوا ہے ہمارے رقیب سے

رخنہ نیا کوئی وہ رفاقت میں ڈالے گا

میرے حضورؐ اس کی شفاعت نہ کیجیے

جو بھی فتور آپؐ کی اُمت میں ڈالے گا

Sunday, 11 June 2023

کچھ بھیک سے امید کو بہلا کے رکھا ہے

 کچھ بھیک سے امید کو بہلا کے رکھا ہے

کشکول نے اس قوم کو چکرا کے رکھا ہے

مجنوں کی وراثت کا وہ حق دار نہیں ہے

جس نے بھی قدم دشت میں گھبرا کے رکھا ہے

سینے سے نہ نکلے کسی خوش شکل کی خاطر

میں نے دل بے تاب کو سمجھا کے رکھا ہے