کروں گا کیوں کوئی سمجھوتہ اب اصولوں سے
میں آشنا ہوں محبت کے جب اصولوں سے
انا کا دخل ہی ہوتا نہیں محبت میں
چمٹ کے بیٹھے ہو تم بے سبب اصولوں سے
کہیں پہ کوئی سمجھتا ہے سب اصول فضول
کہیں پہ لڑتا ہے اک جاں بلب اصولوں سے
کروں گا کیوں کوئی سمجھوتہ اب اصولوں سے
میں آشنا ہوں محبت کے جب اصولوں سے
انا کا دخل ہی ہوتا نہیں محبت میں
چمٹ کے بیٹھے ہو تم بے سبب اصولوں سے
کہیں پہ کوئی سمجھتا ہے سب اصول فضول
کہیں پہ لڑتا ہے اک جاں بلب اصولوں سے
جب درد کی زبان میں کچھ بولتے ہیں ہم
بہری سماعتوں میں بھی رس گھولتے ہیں ہم
ہوتی ہیں کائنات کی سانسیں بھی مُشک بُو
بابِ گُلِ اُمید کو جب کھولتے ہیں ہم
سادہ دلی سے کھائے ہیں دھوکے قدم قدم
ہر آدمی کو پہلے نہیں تولتے ہیں ہم
گھروں کو اپنے چھوڑ کر نکل رہے ہیں شوق سے
مُسافرت پسند ہیں، سو چل رہے ہیں شوق سے
نہیں کسی پہ جبر ہے، سب اپنے اپنے راستے
بدل گئے ہیں شوق سے، بدل رہے ہیں شوق سے
یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں دلوں میں جن کے سوگ ہیں
زہر کی گولیاں بھی وہ نِگل رہے ہیں شوق سے
تھوڑی سی آگ پھر وہ محبت میں ڈالے گا
اس بار اک نئی وہ مصیت میں ڈالے گا
قاصد ملا ہوا ہے ہمارے رقیب سے
رخنہ نیا کوئی وہ رفاقت میں ڈالے گا
میرے حضورؐ اس کی شفاعت نہ کیجیے
جو بھی فتور آپؐ کی اُمت میں ڈالے گا
کچھ بھیک سے امید کو بہلا کے رکھا ہے
کشکول نے اس قوم کو چکرا کے رکھا ہے
مجنوں کی وراثت کا وہ حق دار نہیں ہے
جس نے بھی قدم دشت میں گھبرا کے رکھا ہے
سینے سے نہ نکلے کسی خوش شکل کی خاطر
میں نے دل بے تاب کو سمجھا کے رکھا ہے