Showing posts with label حماد نیازی. Show all posts
Showing posts with label حماد نیازی. Show all posts

Wednesday, 28 June 2023

دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی

 دل کے سُونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی 

دُھوپ بھرے سناٹے میں آواز سُنی ہے چھاؤں کی 

اک منظر میں سارے منظر پس منظر ہو جانے ہیں 

اک دریا میں مل جانی ہیں لہریں سب دریاؤں کی 

دشت نوردی اور ہجرت سے اپنا گہرا رشتہ ہے 

اپنی مٹی میں شامل ہے مٹی کچھ صحراؤں کی 

Sunday, 20 February 2022

کتنے برس سے دیکھ رہا ہوں خواب کوئی بیداری میں

 کتنے برس سے دیکھ رہا ہوں خواب کوئی بیداری میں

نیند کے برتن ٹوٹ گئے ہیں آنکھوں کی الماری میں

بوسے لیتی پیشانی تھی،۔ ویرانی کا رزق بنی

زنگ لگا آوازوں کو اور زہر ملا ترکاری میں

ایک بدن کی خاموشی نے دل میں شور کی گرد بھری

تاریکی کی آیت پڑھ کر وصل کیا بیزاری میں

Friday, 3 September 2021

آوازیں رات کی خاموشی میں

 سفر


آوازیں رات کی خاموشی میں

اوجھل ہونے کا سندیسہ لائی ہیں

چاند کے آدھے ٹکڑے پر 

کچھ خوابوں کی تدفین ہوئی ہے

گھڑے کا پانی قطرہ قطرہ ڈول رہا ہے

Thursday, 2 September 2021

نقل مکانی سہیلی دنیا بدل گئی ہے

 نقل مکانی


سہیلی دنیا بدل گئی ہے

ہمارے کچے گھروں کے کمروں میں 

سوکھے پتوں کا کوئی پنکھا نہیں پڑا ہے

ہماری خستہ چھتیں جو گزری تمام راتوں کا آئینہ تھیں

وہاں پہ کالے نحیف جالے لٹک رہے ہیں

Thursday, 4 March 2021

اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو

 اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو

دور تلک بس کچھ نہ ہو حیرانی ہو

کچھ برباد زمینیں ہوں آبادی میں

کچھ آباد مکانوں میں ویرانی ہو

ویرانی کی گرد چھٹے اور تُو آئے

تُو آئے اور ایک نئی ویرانی ہو

Tuesday, 2 April 2019

مورے اندر میل بھری

گیت

مورے اندر میل بھری سیاں
مورے اندر میل بھری 

گِیتوں کی گٹھڑی باندھ کے میں من کے گاؤں گیا 
آیا تھا بلاوا مِیت کا میں ننگے پاؤں گیا 
شبدوں کی راکھ تھی ہاتھ میں آنکھوں میں ریت دھری 
مورے اندر میل بھری سیاں

اب جو منظر ہے یہ منظر ہو نہ ہو چلتے بنو

اب جو منظر ہے یہ منظر ہو نہ ہو، چلتے بنو
کیمرے سے خواب کی تصویر لو، چلتے بنو
باؤ جی! دنیا سرائے ہے کوئی رکتا نہیں 
چائے پانی پی چکے ہو تو اٹھو، چلتے بنو
اس جزیرے پر محبت ڈھونڈنا جائز نہیں 
خیر چھوڑو آ گئے ہو ڈھونڈ لو، چلتے بنو

Monday, 20 February 2017

جب منڈیروں پہ چراغوں کی کمک جاری تھی

جب منڈیروں پہ چراغوں کی کمک جاری تھی
لفظ تھے لفظوں میں احساس کی سرداری تھی
اب جو لوٹا ہوں تو پہچان نہیں ہوتی ہے
کہاں در تھا، کہاں دیوار تھی، الماری تھی
وہ حویلی بھی سہیلی تھی پہیلی جیسی
جسکی اینٹوں میں میرے خواب تھے خودداری تھی

دیوار الجھ پڑی تو کبھی در الجھ پڑا

دیوار الجھ پڑی تو کبھی در الجھ پڑا
جب سے کوئی وجود کے اندر الجھ پڑا
میں آئینے کو دیکھ رہا تھا، کہ آئینہ
مجھ حیرتی سے آنکھ ملا کر الجھ پڑا
آواز دے رہا تھا کنارے پہ موج کو
پھر یوں ہوا کہ مجھ سے سمندر الجھ پڑا

زندگی نیند سے بیداری تک کا ثانیہ ہے

زندگی نیند سے بیداری تک کا ثانیہ ہے

لمبی سیاہ رات گزرنے کے بعد 
صبح کی پہلی دستک 
روشن کر دیتی ہے
بجھے ہوۓ چہرے 
اور زندہ کر دیتی ہے 
مری ہوئی آوازیں، کھڑکیاں اور کواڑ

Sunday, 6 November 2016

ہجر کی سرزمینوں سے چلتی ہوا

ہجر کی سرزمینوں سے چلتی ہوا، دل کے پیڑوں کا نقصان کرتی ہوئی
چاند جیسی وہ پیشانیاں بجھ گئیں، ایک آواز اعلان کرتی ہوئی
گھی لگی روٹیاں بوڑھے لرزیدہ ہاتھوں سے پکتی رہیں اور مہکتی رہیی
رنگ تصویر میں سانس لینے لگے، دھوپ کھیتوں کو گنجان کرتی ہوئی
ماں کے ہونٹوں سے خوشبو کی آیت سنی اور سانسوں نے اسکی تلاوت بھی کی
گھر کے چاروں طرف اک صحیفے کی ضو آسمانوں کو حیران کرتی ہوئی

اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو

اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو
دور تلک بس کچھ نہ ہو حیرانی ہو
کچھ برباد زمینیں ہوں آبادی میں
کچھ آباد مکانوں میں ویرانی ہو
ویرانی کی گرد چھٹے اور تُو آئے
تُو آئے اور ایک نئی ویرانی ہو

Wednesday, 3 December 2014

وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی

وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی
دل کی حیرانیاں ابھارتی تھی
اپنی نادیدہ انگلیوں کے ساتھ
میرے بالوں کو وہ سنوارتی تھی
روز میں اس کو جیت جاتا تھا
اور وہ روز خود کو ہارتی تھی

رنگ اور نور کو آپس میں ملا دیتا تھا

رنگ اور نور کو آپس میں ملا دیتا تھا
میں کسی وقت میں خوشبو کا پتہ دیتا تھا
جب کوئی میری تگ و تاز نہیں جانتا تھا
اپنی روداد میں ٹیلوں کو سنا دیتا تھا
اک تیقن میں گزرتے تھے شب و روز مِرے
اور کوئی کارِ جنوں تھا جو جِلا دیتا تھا

گل شکست لیے کب تلک پھروں گا میں

گلِ شکست لیے کب تلک پھروں گا میں
کبھی تو دستِ طلبگار سے ملوں گا میں
مگر وه خواب جو آئنده تک نہیں جاتا
رہے رہے نہ رہے دیکھتا رہوں گا میں
ابھی وه سلطنتِ ہجر کے نواح میں ہے
وه ایک دن جسے جی بھر کے جی سکوں گا میں

Saturday, 26 April 2014

ہجر ایسا کوئی آزار نہیں ہونے کا

ہجر ایسا کوئی آزار نہیں ہونے کا
نہیں ہونے کا مِرے یار نہیں ہونے کا
رونے لگتا ہے پسِ چشم کوئی دوسرا بھی
سو میں تجھ غم میں عزادار نہیں ہونے کا
روشنی ساز کوئی آئے تو آئے ورنہ
شب کا منظر شفق آثار نہیں ہونے کا

اس میں تخصیص خاص و عام تو نئیں

اس میں تخصیصِ خاص و عام تو نئیں
دل تو دل ہے کوئی غلام تو نئیں
سب مکینوں کا یوں چلے جانا
اس حویلی کا انہدام تو نئیں
خواب میں اس کا مسکرا دینا
دل دھڑکنے کا انتظام تو نئیں

ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں

ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں
جہانِ ہست و بود میں کسی پہ کچھ کھلا نہیں
حضورِ خواب دیر تک، کھڑا رہا سویر تک
نشیبِ قلب و چشم سے گزر تِرا ہوا نہیں
نظر میں اک چراغ تھا، بدن میں ایک باغ تھا
چراغ و باغ ہو چکے، کوئی رہا؟ رہا نہیں

خواب دیکھا تھا دلنشیں میں نے

خواب دیکھا تھا دلنشیں میں نے
بھر دیئے رنگ ہر کہیں میں نے
کوئی آیا، یہاں، نہیں، شاید
کس کو دیکھا ہے پھر یہیں میں نے
کوئی صورت ابھرتی رہتی ہے
جس کو سوچا ابھی نہیں میں نے

گزشت و رفت کے مابین کیا دیا گیا ہے

گزشت و رفت کے مابین کیا دیا گیا ہے 
نئے غبار کا حصہ بنا دیا گیا ہے
ہمارے خواب ہمارے نہیں رہے مِرے دوست
سو دستِ چشم میں کاسہ تھما دیا گیا ہے
عجیب جنگ ہے چھڑنے سے قبل ہی مجھ کو
مِری شکست کا منظر دکھا دیا گیا ہے