دل کے سُونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی
دُھوپ بھرے سناٹے میں آواز سُنی ہے چھاؤں کی
اک منظر میں سارے منظر پس منظر ہو جانے ہیں
اک دریا میں مل جانی ہیں لہریں سب دریاؤں کی
دشت نوردی اور ہجرت سے اپنا گہرا رشتہ ہے
اپنی مٹی میں شامل ہے مٹی کچھ صحراؤں کی