Showing posts with label اختر ضیائی. Show all posts
Showing posts with label اختر ضیائی. Show all posts

Thursday, 31 March 2022

پھر وہی شب کے سرابوں کا چلن پھر وہی خواب نما

 پھر وہی شب کے سرابوں کا چلن


پھر وہی خواب نما

شب کے سرابوں کا چلن جاری ہے

شب کہ اس بار صفیرانِ چمن

اور بھی کچھ بھاری ہے

گل پہ شبنم پہ عنادل پہ

Thursday, 9 December 2021

درد و درمان خوبصورت ہے

 درد و درمان خوبصورت ہے

کل کا پیمان خوبصورت ہے

جس کے ملنے کی اب نہیں امید

اس کا ارمان خوبصورت ہے

ساتھ دیتا ہے وحشتِ دل کا

چاکِ دامان خوبصورت ہے

Monday, 15 June 2020

خنجر سے سوا کاٹ ہے اب تار نفس میں

خنجر سے سوا کاٹ ہے اب تارِ نفس میں
مرنا مِرے بس میں ہے نہ جینا مِرے بس میں
پھرتے ہیں جگر چاک، جنوں کیش یگانے
اب بھی ہیں وہی کوچۂ دلدار کی رسمیں
جز داغِ وفا کچھ نہ ملا کوئے ستم سے
بہتات تھی ہر جنس کی بازارِ ہوس میں

کم نصیبوں کو ستانے کی سزا پائے گا

کم نصیبوں کو ستانے کی سزا پائے گا
ظلم پھر ظلم ہے اک روز ثمر لائے گا
بس گیا جس کے رگ و پے میں وہ سیماب صفت
کیا کوئی اس دلِ مجبور کو سمجھائے گا
ہم نے کچھ روز کیا آنکھ سے اوجھل جس کو
کیا خبر تھی کہ بہت دور چلا جائے گا

خوشیوں کی آرزو میں غموں سے نڈھال ہیں

خوشیوں کی آرزو میں غموں سے نڈھال ہیں
عبرت سرائے دہر میں ہم بے مثال ہیں
کچھ تو جواب دے انہیں اے خاطرِ ازل
الجھے ہوئے نقوش سراپا سوال ہیں
زندانِ باصفا کو زر و مال سے نہ جانچ
یہ خوش مزاج لوگ بڑے باکمال ہیں

Tuesday, 13 December 2016

چہرے کی دھوپ زلف کے سائے سمٹ گئے

چہرے کی دھوپ زلف کے سائے سمٹ گئے
پل کی جھپک میں وصل کے ایام کٹ گئے
اور مصلحت شناس تیرا کھل گیا بھرم
لے ہم ہی تیرے پیار کے رستے سے ہٹ گئے
پاسِ ادب کہ پاسِ مروت کہیں اسے
اکثر لبوں تک آئے گِلے اور پلٹ گئے

ملتے رہے ہیں داغ جو بدلے میں پیار کے

ملتے رہے ہیں داغ جو بدلے میں پیار کے
روشن ہیں یہ چراغ ہر اک یادگار کے
دن کے قرار، رات کی نیندوں کو کھا گئے
سوز و گداز عشق کے لیل و نہار کے
ہم جانتے ہیں صبحِ قیامت کی بے کلی
جھیلے ہم نے دکھ جو شبِ انتظار کے

رنگوں کو خوشبوؤں کو ترا نام بخش دوں

رنگوں کو خوشبوؤں کو ترا نام بخش دوں
جی چاہتا ہے زیست کو انعام بخش دوں
ڈسنے لگی ہے تلخ حقائق کی تیز دھوپ
چاہو اگر تو سایۂ اوہام بخش دوں
الجھے تخیلات کی ترسیل کے لیے
اظہار کو سہولتِ ابہام بخش دوں

Friday, 20 March 2015

آنکھوں میں سما جانا یادوں میں مکیں رہنا

آنکھوں میں سما جانا، یادوں میں مکیں رہنا
اس شوخ کی عادت ہے، بس پردہ نشیں رہنا
خلوت کو سجا دینا، خوابوں کو بسا دینا
جس رنگ میں بھی رہنا، کچھ اور حسیں رہنا
اس جانِ صباحت کی تقدیر میں لکھا ہے
محبوبِ نظر ہونا، فرخندہ جبیں رہنا

بے کلی میں بھی سدا روپ سلونا چاہے

بے کلی میں بھی سدا روپ سلونا چاہے
دل وہ بگڑا ہوا بالک، جو کھلونا چاہے
حسن معصوم ہے پر خواب خزانوں کے بُنے
کبھی ہیرے، کبھی موتی، کبھی سونا چاہے
تجھ سے بچھڑا ہے تو گھائل کی عجب حالت ہے
بیٹھے بیٹھے کبھی ہنسنا، کبھی رونا چاہے

بے سبب روٹھ گیا چھوڑ کے جانے والا

بے سبب روٹھ گیا چھوڑ کے جانے والا
پھر سے شاید وہ نہیں لوٹ کے آنے والا
وہ جو برسا نہ کھلا، ابرِ گریزاں کی طرح
چشمِ مے گوں سے میری پیاس بجھانے والا
وہ دھنک تھا کہ شفق، پیکرِ خوشبو بن کر
دل کے آنگن میں نئے پھول کھلانے والا

شام سویرے یاد تمہاری ملنے آتی ہے

شام سویرے یاد تمہاری ملنے آتی ہے
تم تو جیسے بھول گئے ہو، یہ تڑپاتی ہے
کون ہے جو ان کرب کے لمحوں میں دَمساز ہے
دل ہی اپنا یار ہے اب تو درد بھی ذاتی ہے
بالے پن کے دھندلے سپنے زندہ رہتے ہیں
تنہائی سو بار جنہیں اکثر دہراتی ہے

اک نظر سوئے بام کر چلئے

اک نظر سوئے بام کر چلیے
چلتے چلتے سلام کر چلیے
گردشِ وقت سے نکل کے ذرا
شرکتِ دورِ جام کر چلیے
ہوش کی دھوپ جی جلاتی ہے
خم کے سائے میں شام کر چلیے

ڈسنے لگی جو گردشِ ایام پی گیا

ڈسنے لگی جو گردشِ ایام، پی گیا
بے چارگی میں لے کے تیرا نام پی گیا
سوزِ فراق، دردِ محبت، جفائے دہر
گل مے کے ساتھ میں غم و آلام پی گیا
ساغر بدست کب سے پریشاں خیال تھا
ملتے ہی تیری آنکھ کا پیغام پی گیا

اس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہا

اس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہا
تم سے بچھڑا تو دربدر ہی رہا
آنکھ کچھ منظروں پہ رکتی رہی
دل تو آمادۂ سفر ہی رہا
ایک عالم کی فکر تھی جس کو
میری حالت سے بے خبر ہی رہا

Wednesday, 11 July 2012

ظُلمتوں کے پروردہ روشنی سے ڈرتے ہیں

ظلمتوں کے پروردہ، روشنی سے ڈرتے ہیں
موت کے یہ سوداگر زندگی سے ڈرتے ہیں
علم ہی وہ طاقت ہے، خوف کی جو دشمن ہے
مصلحت کے خوشہ چیں آگہی سے ڈرتے ہیں
دشمنوں کی نیّت تو ہم پہ خوب ظاہر تھی
پُرفریب لوگوں کی دوستی سے ڈرتے ہیں