رنگوں کو خوشبوؤں کو ترا نام بخش دوں
جی چاہتا ہے زیست کو انعام بخش دوں
ڈسنے لگی ہے تلخ حقائق کی تیز دھوپ
چاہو اگر تو سایۂ اوہام بخش دوں
الجھے تخیلات کی ترسیل کے لیے
بہتر ہے ہمرہی میں مصائب کا تجزیہ
آغاز کو نہ تہمتِ انجام بخش دوں
ایسا نہ ہو کہیں دلِ بے چین! ایک دن
ناکامیوں کا تجھ کو ہی الزام بخش دوں
یہ دورِ دلفریب، سرابوں کا دور ہے
اس کو شعورِ ذات کا پیغام بخش دوں
ان کی خبث دلی، کریں چھپ کر مخالفت
میرا یہ حوصلہ کہ سرِ عام بخش دوں
حور و طہور صحبتِ غلماں کی یاد میں
آ، شیخ! تجھ کو بادۂ گلفام بخش دوں
کچھ دیر ذکرِ صبحِ قیامت کو بھول جا
ناداں تجھے مہکتی ہوئی شام بخش دوں
مدت کے بعد کیوں نہ عدم کی زبان میں
اختؔر غزل کو منصبِ الہام بخش دوں
اختر ضیائی
No comments:
Post a Comment