Tuesday, 13 December 2016

رنگوں کو خوشبوؤں کو ترا نام بخش دوں

رنگوں کو خوشبوؤں کو ترا نام بخش دوں
جی چاہتا ہے زیست کو انعام بخش دوں
ڈسنے لگی ہے تلخ حقائق کی تیز دھوپ
چاہو اگر تو سایۂ اوہام بخش دوں
الجھے تخیلات کی ترسیل کے لیے
اظہار کو سہولتِ ابہام بخش دوں
بہتر ہے ہمرہی میں مصائب کا تجزیہ
آغاز کو نہ تہمتِ انجام بخش دوں
ایسا نہ ہو کہیں دلِ بے چین! ایک دن
ناکامیوں کا تجھ کو ہی الزام بخش دوں
یہ دورِ دلفریب، سرابوں کا دور ہے
اس کو شعورِ ذات کا پیغام بخش دوں
ان کی خبث دلی، کریں چھپ کر مخالفت
میرا یہ حوصلہ کہ سرِ عام بخش دوں
حور و طہور صحبتِ غلماں کی یاد میں
آ، شیخ! تجھ کو بادۂ گلفام بخش دوں
کچھ دیر ذکرِ صبحِ قیامت کو بھول جا
ناداں تجھے مہکتی ہوئی شام بخش دوں
مدت کے بعد کیوں نہ عدم کی زبان میں
اختؔر غزل کو منصبِ الہام بخش دوں

اختر ضیائی

No comments:

Post a Comment