Showing posts with label ہربھجن بسمل. Show all posts
Showing posts with label ہربھجن بسمل. Show all posts

Monday, 27 July 2026

تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے

 اُٹھ کے در سے  تمہارے اگر جائیں گے

تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے

جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے

جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے

تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے

قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے

Tuesday, 3 March 2026

جب سانس ہویں گے ختم اپنے عجیب رنج و ملال ہو گا

 جب سانس ہویں گے ختم اپنے عجیب رنج و ملال ہو گا

چھٹیں گے مال اور بال بچے تو جبر دل پہ کمال ہو گا

نہ کام آئیں گے یار اس دم نہ بہن بھائی نہ پسر و دختر

پھرے گا سارا جہان ہم سے نہ کوئی پُرسانِ حال ہو گا

کہے گی زوجہ نکالو جلدی، نہ شام آوے اب اس کو گھر پہ

ہو آگ اچھی، وگرنہ گھر میں یہ بھوت بن کر وبال ہو گا

Sunday, 17 August 2025

نہ کر گناہوں کا للہ حساب رہنے دے

نہ کر گناہوں کا للہ حساب رہنے دے

یہ بے حساب ہیں تو بے حساب رہنے دے

سنا ہے تِرے کرم کی تو انتہا ہی نہیں

تو لینا دینا ہی کیا ہے، کتاب رہنے دے

پلا وہ شے کہ نہ باقی رہے حِرص ساقی

اور رند بول اٹھیں اب شراب رہنے دے

Wednesday, 23 July 2025

تری نیرنگیوں کا رنگ دل بسمل سے ملتا ہے

 تری نیرنگیوں کا رنگ دل بسمل سے ملتا ہے

تُو ہے ہر رنگ میں مولا، تُو ہر دل سے ملتا ہے

تری شمشیر کے صدقے مٹائی بے کلی دل کی

ہوا رازِ نہاں ظاہر کہ دل کب دل سے ملتا ہے

وصالِ یار جیتے جی نہ ہوتا ہے، نہ ہوئے گا

بشر پاتا ہے وہ اس کو جو پہلے گِل سے ملتا ہے

Friday, 2 September 2022

دیکھتا جا شوق وصل روح بسمل اور بھی

آ ادھر آ حوصلہ گر کچھ ہے قاتل اور بھی

دیکھتا جا شوق وصل روح بسمل اور بھی

دیکھ کر مقتل میں جوش خون بسمل اور بھی

چڑھ گیا اک دم دم شمشیر قاتل اور بھی

جب سے اپنا کعبۂ دل جلوہ گاہ یار ہے

بڑھ گئی ہے عاشقوں میں عظمت دل اور بھی