اُٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے
تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے
جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے
جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے
تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے
قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے
اُٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے
تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے
جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے
جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے
تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے
قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے
جب سانس ہویں گے ختم اپنے عجیب رنج و ملال ہو گا
چھٹیں گے مال اور بال بچے تو جبر دل پہ کمال ہو گا
نہ کام آئیں گے یار اس دم نہ بہن بھائی نہ پسر و دختر
پھرے گا سارا جہان ہم سے نہ کوئی پُرسانِ حال ہو گا
کہے گی زوجہ نکالو جلدی، نہ شام آوے اب اس کو گھر پہ
ہو آگ اچھی، وگرنہ گھر میں یہ بھوت بن کر وبال ہو گا
نہ کر گناہوں کا للہ حساب رہنے دے
یہ بے حساب ہیں تو بے حساب رہنے دے
سنا ہے تِرے کرم کی تو انتہا ہی نہیں
تو لینا دینا ہی کیا ہے، کتاب رہنے دے
پلا وہ شے کہ نہ باقی رہے حِرص ساقی
اور رند بول اٹھیں اب شراب رہنے دے
تری نیرنگیوں کا رنگ دل بسمل سے ملتا ہے
تُو ہے ہر رنگ میں مولا، تُو ہر دل سے ملتا ہے
تری شمشیر کے صدقے مٹائی بے کلی دل کی
ہوا رازِ نہاں ظاہر کہ دل کب دل سے ملتا ہے
وصالِ یار جیتے جی نہ ہوتا ہے، نہ ہوئے گا
بشر پاتا ہے وہ اس کو جو پہلے گِل سے ملتا ہے
آ ادھر آ حوصلہ گر کچھ ہے قاتل اور بھی
دیکھتا جا شوق وصل روح بسمل اور بھی
دیکھ کر مقتل میں جوش خون بسمل اور بھی
چڑھ گیا اک دم دم شمشیر قاتل اور بھی
جب سے اپنا کعبۂ دل جلوہ گاہ یار ہے
بڑھ گئی ہے عاشقوں میں عظمت دل اور بھی