Showing posts with label واصف دہلوی. Show all posts
Showing posts with label واصف دہلوی. Show all posts

Thursday, 3 November 2022

کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا

 کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا

کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہو گا

نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہو گا

نظر جب کامراں ہو گی تو اے دل تو کہاں ہو گا

وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہو گا

جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہو گا

Saturday, 11 December 2021

نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے

 نسیمِ صبح یوں لے کر تِرا پیغام آتی ہے

پری جیسے کوئی ہاتھوں میں لے کر جام آتی ہے

وہ منظر بھی کبھی دیکھا ہے اہلِ کارواں تم نے

امنڈ کر جب کسی بچھڑے ہوئے پر شام آتی ہے

یہاں اب ناتوانی سے قدم بھی اٹھ نہیں سکتے

ادھر محفل سے ساقی کی صلائے عام آتی ہے

Friday, 10 December 2021

قدم یوں بے خطر ہو کر نہ میخانے میں رکھ دینا

 قدم یوں بے خطر ہو کر نہ مے خانے میں رکھ دینا

بہت مشکل ہے جان و دل کو نذرانے میں رکھ دینا

سنا ہے حضرتِ واعظ ادھر تشریف لائیں گے

ذرا اس کاسۂ گردوں کو مے خانے میں رکھ دینا

بتوں کے دل میں یوں شاید خدا کا خوف پیدا ہو

یہ میرے دل کے ٹکڑے جا کے بتخانے میں رکھ دینا

Friday, 17 September 2021

کھلنے ہی لگے ان پر اسرار شباب آخر

 کھلنے ہی لگے ان پر اسرار شباب آخر

آنے ہی لگا ہم سے اب ان کو حجاب آخر

تعمیل کتاب اول،۔ تاویل کتاب آخر

تدبیر و عمل اول، تقریر و خطاب آخر

اس خاک کے پتلے کی کیا خوب کہانی ہے

مسجود ملک اول، رُسوا و خراب آخر

Tuesday, 17 November 2020

ہمسفر تھم تو سہی دل کو سنبھالوں تو چلوں

 ہمسفر تھم تو سہی دل کو سنبھالوں تو چلوں

منزل دوست پہ دو اشک بہا لوں تو چلوں

ہر قدم پر ہیں مرے دل کو ہزاروں الجھاؤ

دامنِ صبر کو کانٹوں سے چھڑا لوں تو چلوں

مجھ سا کون آئے گا تجدیدِ مکارم کے لیے

دشتِ امکاں کی ذرا خاک اڑا لوں تو چلوں