کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا
کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہو گا
نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہو گا
نظر جب کامراں ہو گی تو اے دل تو کہاں ہو گا
وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہو گا
جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہو گا
کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا
کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہو گا
نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہو گا
نظر جب کامراں ہو گی تو اے دل تو کہاں ہو گا
وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہو گا
جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہو گا
نسیمِ صبح یوں لے کر تِرا پیغام آتی ہے
پری جیسے کوئی ہاتھوں میں لے کر جام آتی ہے
وہ منظر بھی کبھی دیکھا ہے اہلِ کارواں تم نے
امنڈ کر جب کسی بچھڑے ہوئے پر شام آتی ہے
یہاں اب ناتوانی سے قدم بھی اٹھ نہیں سکتے
ادھر محفل سے ساقی کی صلائے عام آتی ہے
قدم یوں بے خطر ہو کر نہ مے خانے میں رکھ دینا
بہت مشکل ہے جان و دل کو نذرانے میں رکھ دینا
سنا ہے حضرتِ واعظ ادھر تشریف لائیں گے
ذرا اس کاسۂ گردوں کو مے خانے میں رکھ دینا
بتوں کے دل میں یوں شاید خدا کا خوف پیدا ہو
یہ میرے دل کے ٹکڑے جا کے بتخانے میں رکھ دینا
کھلنے ہی لگے ان پر اسرار شباب آخر
آنے ہی لگا ہم سے اب ان کو حجاب آخر
تعمیل کتاب اول،۔ تاویل کتاب آخر
تدبیر و عمل اول، تقریر و خطاب آخر
اس خاک کے پتلے کی کیا خوب کہانی ہے
مسجود ملک اول، رُسوا و خراب آخر
ہمسفر تھم تو سہی دل کو سنبھالوں تو چلوں
منزل دوست پہ دو اشک بہا لوں تو چلوں
ہر قدم پر ہیں مرے دل کو ہزاروں الجھاؤ
دامنِ صبر کو کانٹوں سے چھڑا لوں تو چلوں
مجھ سا کون آئے گا تجدیدِ مکارم کے لیے
دشتِ امکاں کی ذرا خاک اڑا لوں تو چلوں