روتی ہوں زار زار میں اکثر دعا کے بعد
کیا یاد آئے پھر کوئی یاد خدا کے بعد
اے کاش جان سکتے یہ منصب پرست لوگ
رہتا نہیں ہے کچھ بھی کسی کا فنا کے بعد
مرنے سے پہلے عاقبت اپنی سنوار لے
توبہ قبول ہوتی نہیں ہے قضا کے بعد
روتی ہوں زار زار میں اکثر دعا کے بعد
کیا یاد آئے پھر کوئی یاد خدا کے بعد
اے کاش جان سکتے یہ منصب پرست لوگ
رہتا نہیں ہے کچھ بھی کسی کا فنا کے بعد
مرنے سے پہلے عاقبت اپنی سنوار لے
توبہ قبول ہوتی نہیں ہے قضا کے بعد
خاکِ فردا سے عورت بنا دی گئی
اور پھر آدمی کو دکھا دی گئی
میری گھونگھٹ میں تصویریں کھینچی گئیں
بعد میں میری چندری جلا دی گئی
ٹیکا، جھومر سے مجھ کو سجایا گیا
اصلی صورت ہی میری چھپا دی گئی
محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے
اداس موسم کا تذکرہ بهی کیا نہ جائے
ملو تو ایسے کہ آئینہ آیئنے سے جیسے
دلوں میں رنجش یا بغض رکھ کر ملا نہ جائے
میں چاہتی ہوں بغیر میرے نہ ره سکے تو
میں چاہتی بغیر تیرے رہا نہ جائے
وقت کی راگنی گیت گاتی رہی
اور میں گیت کی دُھن بناتی رہی
برق تھی گر گئی شخص تھا جل گیا
دیر تک راکھ سے آنچ آتی رہی
ہجر کی رات تھی جاگنا شرط تھا
چاندنی نیند کے پر بناتی رہی
رنج میں راحت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو
جاناں، حسرت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو
اب تک مجھ پتھر کو تراشا کب ہے تم نے
کوئی مورت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو
غصے میں بھی ہم کو چپ رہنا پڑتا ہے
جان مروت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو
وہ بھی اور ہم بھی بیوفا نکلے
ہر تعلق سے ہی جدا نکلے
اس لیے کھولتی نہیں میں اسے
عین ممکن ہے دوسرا نکلے
اب مجھے چاہیے نتیجہ عشق
وہ برا نکلے یا بھلا نکلے
غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں
ہماری آنکھ میں ایسے اشارے تو نہیں ہیں
ہمارے ہو تو پھر آؤ، ہمارا ساتھ بھی دو
مسائل زندگی کے سب ہمارے تو نہیں ہیں
اداسی کو اداسی کیوں نہیں تسلیم کرتے
مری پلکوں پہ آنسو ہیں، ستارے تو نہیں ہیں