Showing posts with label گل افشاں. Show all posts
Showing posts with label گل افشاں. Show all posts

Monday, 25 October 2021

روتی ہوں زار زار میں اکثر دعا کے بعد

 روتی ہوں زار زار میں اکثر دعا کے بعد

کیا یاد آئے پھر کوئی یاد خدا کے بعد

اے کاش جان سکتے یہ منصب پرست لوگ

رہتا نہیں ہے کچھ بھی کسی کا فنا کے بعد

مرنے سے پہلے عاقبت اپنی سنوار لے

توبہ قبول ہوتی نہیں ہے قضا کے بعد

Tuesday, 27 July 2021

خاک فردا سے عورت بنا دی گئی

 خاکِ فردا سے عورت بنا دی گئی

اور پھر آدمی کو دکھا دی گئی

میری گھونگھٹ میں تصویریں کھینچی گئیں

بعد میں میری چندری جلا دی گئی

ٹیکا، جھومر سے مجھ کو سجایا گیا

اصلی صورت ہی میری چھپا دی گئی

Sunday, 25 July 2021

محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے

 محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے

اداس موسم کا تذکرہ بهی کیا نہ جائے

ملو تو ایسے کہ آئینہ آیئنے سے جیسے

دلوں میں رنجش یا بغض رکھ کر ملا نہ جائے

میں چاہتی ہوں بغیر میرے نہ ره سکے تو

میں چاہتی بغیر تیرے رہا نہ جائے

Wednesday, 21 July 2021

وقت کی راگنی گیت گاتی رہی

 وقت کی راگنی گیت گاتی رہی

اور میں گیت کی دُھن بناتی رہی

برق تھی گر گئی شخص تھا جل گیا

دیر تک راکھ سے آنچ آتی رہی

ہجر کی رات تھی جاگنا شرط تھا

چاندنی نیند کے پر بناتی رہی

Tuesday, 20 July 2021

رنج میں راحت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو

 رنج میں راحت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو

جاناں، حسرت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو

اب تک مجھ پتھر کو تراشا کب ہے تم نے

کوئی مورت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو

غصے میں بھی ہم کو چپ رہنا پڑتا ہے

جان مروت کیا ہوتی ہے، تم کیا جانو

Monday, 19 July 2021

وہ بھی اور ہم بھی بے وفا نکلے

 وہ بھی اور ہم بھی بیوفا نکلے

ہر تعلق سے ہی جدا نکلے

اس لیے کھولتی نہیں میں اسے

عین ممکن ہے دوسرا نکلے

اب مجھے چاہیے نتیجہ عشق

وہ برا نکلے یا بھلا نکلے

Friday, 18 December 2020

غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں

 غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں

ہماری آنکھ میں ایسے اشارے تو نہیں ہیں

ہمارے ہو تو پھر آؤ، ہمارا ساتھ بھی دو

مسائل زندگی کے سب ہمارے تو نہیں ہیں

اداسی کو اداسی کیوں نہیں تسلیم کرتے

مری پلکوں پہ آنسو ہیں، ستارے تو نہیں ہیں