وقت کی راگنی گیت گاتی رہی
اور میں گیت کی دُھن بناتی رہی
برق تھی گر گئی شخص تھا جل گیا
دیر تک راکھ سے آنچ آتی رہی
ہجر کی رات تھی جاگنا شرط تھا
چاندنی نیند کے پر بناتی رہی
آپ ہی آپ وہ گنگناتا رہا
آپ ہی آپ میں مسکراتی رہی
جل گئی میں مگر دل جگر کب جلے
آنچ کی اک کمی سر اٹھاتی رہی
کام اولاد کے سہل ہوتے رہے
مامتا فرض اپنا نبھاتی رہی
گل افشاں
No comments:
Post a Comment