پرتو افگن رخِ پُر نور ہوا خوب ہُوا
قصرِ دل نور سے معمور ہوا خوب ہوا
رازِ مخفی کیا اظہار تو کم ظرفی تھی
لائقِ دار جو منصور ہوا خوب ہوا
تا ابد تیری نشانی یہ رہی اے قاتل
زخم دل کا میرے ناسور ہوا خوب ہوا
پرتو افگن رخِ پُر نور ہوا خوب ہُوا
قصرِ دل نور سے معمور ہوا خوب ہوا
رازِ مخفی کیا اظہار تو کم ظرفی تھی
لائقِ دار جو منصور ہوا خوب ہوا
تا ابد تیری نشانی یہ رہی اے قاتل
زخم دل کا میرے ناسور ہوا خوب ہوا
بھڑکی تمہاری گرمئ رخ سے چمن میں آگ
“بولی یہ عندلیب کہ ”آئی وطن میں آگ
ہے زلفِ عنبریں میں رخِ آتشیں ترا
کہتی ہے خلق لگ گئی ملکِ ختن میں آگ
میں نے کہا کہ سرخئ پاں ہے تِری غضب
“ہنس کر کہا کہ ”چل لگے تیرے دہن میں آگ
رکھا سر پر جو آیا یار کا خط
گیا سب درد سر کیا تھا دوا خط
دیا خط اور ہوں قاصد کے پیچھے
ہوا تاثیر میں کیا کہربا خط
وہیں قاصد کے منہ پر پھینک مارا
دیا قاصد نے جب جا کر مرا خط
ہو چکا وعظ کا اثر واعظ
اب تو رندوں سے درگزر واعظ
صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار
ہے ہمیں پہلے دردِ سر واعظ
بزمِ رنداں میں ہو اگر شامل
پھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ
یار کو ہم نے برملا دیکھا
آشکارا، کہیں چھپا دیکھا
لن ترانی“ کہا، کھلا دیکھا”
کُنتُ کنزاً“ کہا، چھپا دیکھا”
کہیں خالق ہوا، کہیں مخلوق
کہیں بندہ، کہیں خدا دیکھا
دنیا میں عبادت کو تِری آئے ہوئے ہیں
پر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں
افسوس عبادت نہ تِری ہو سکی ہم سے
گردن نہیں اٹھتی ہے کہ شرمائے ہوئے ہیں
الزام نہیں طور جو سرمہ ہوا جل کر
موسیٰ بھی تجلی سے تو شرمائے ہوئے ہیں
کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے
جس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہے
عاشق ہے جو کہ جامۂ صدق و صفا میں ہے
معشوق ہے جو پردۂ حلم و حیا میں ہے
عالم ہے مست سجدۂ جاناں میں تا ابد
مستی بلا کی بادۂ ”قالو بلیٰ“ میں ہے
نہ تو نشتر کی نہ کچھ خنجرِ خونخوار کی نوک
لے گئی سب پہ فضیلت مژۂ یار کی نوک
او کماں دار رہی کاوشِ دل تا بہ ابد
کیا بلا تھی تِرے پیکانِ دلآزار کی نوک
تھی تجھے نشترِ دلدوز کی نخوت جراح
سخت جانی نے مِری دیکھ وہ بیکار کی نوک
مائل ہے دل جو زلف گرہ گیر کی طرف
دیوانے کا خیال ہے زنجیر کی طرف
سنتا نہیں زباں سے وہ قاصد کی میرا حال
کرتا نہیں خیال بھی تحریر کی طرف
ہے میرے دل کو ابروئے قاتل سے بسکہ انس
دائم مِرا خیال ہے شمشیر کی طرف
جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے
کوچۂ جاناں میں ہم ہیں، قیس بَن میں مست ہے
تیرے کوچے میں ہے قاتل رقص گاہ عاشقاں
کوئی غلطاں سر بکف، کوئی کفن میں مست ہے
میکدے میں بادہ کش بتخانے میں ہیں بت پرست
جو ہے عالم میں وہ اپنی انجمن میں مست ہے
بحث کیوں ہے کافر و دیندار کی
سب ہے قدرت داورِ دوار کی
ہم صف ”قالوا بلیٰ“ میں کیا نہ تھے
کچھ نئی خواہش نہیں دیدار کی
ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار
تُو نے اب محنت مِری بے کار کی
ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے
حسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہے
خوں ہے وہ جس سے کہ ہو دامن قاتل رنگیں
خون فاسد ہے جو خالی سر مژگاں میں رہے
ہم نے مصنوع سے صانع کی حقیقت پائی
بے سبب ہم نہیں نظارۂ خوباں میں رہے
دور ہو دردِ دل یہ اور دردِ جگر کسی طرح
آج تو ہمنشیں! اسے لا مِرے گھر کسی طرح
تیر مژہ ہو یار کا،۔ اور نشانہ دل مِرا
تیر پہ تیر تا بہ کے کیجے حذر کسی طرح
نالہ ہو، یا کہ آہ ہو،۔ شام ہو، یا پگاہ ہو
دل میں بتوں کے ہائے ہائے کیجے اثر کسی طرح