Showing posts with label بہرام جی. Show all posts
Showing posts with label بہرام جی. Show all posts

Saturday, 5 February 2022

پرتو افگن رخ پر نور ہوا خوب ہوا

 پرتو افگن رخِ پُر نور ہوا خوب ہُوا

قصرِ دل نور سے معمور ہوا خوب ہوا

رازِ مخفی کیا اظہار تو کم ظرفی تھی

لائقِ دار جو منصور ہوا خوب ہوا

تا ابد تیری نشانی یہ رہی اے قاتل

زخم دل کا میرے ناسور ہوا خوب ہوا

Monday, 5 October 2020

بھڑکی تمہاری گرمی رخ سے چمن میں آگ

 بھڑکی تمہاری گرمئ رخ سے چمن میں آگ

“بولی یہ عندلیب کہ ”آئی وطن میں آگ

ہے زلفِ عنبریں میں رخِ آتشیں ترا

کہتی ہے خلق لگ گئی ملکِ ختن میں آگ

میں نے کہا کہ سرخئ پاں ہے تِری غضب

“ہنس کر کہا کہ ”چل لگے تیرے دہن میں آگ

رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

 رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

گیا سب درد سر کیا تھا دوا خط

دیا خط اور ہوں قاصد کے پیچھے

ہوا تاثیر میں کیا کہربا خط

وہیں قاصد کے منہ پر پھینک مارا

دیا قاصد نے جب جا کر مرا خط

Sunday, 4 October 2020

ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

 ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

اب تو رندوں سے درگزر واعظ

صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار

ہے ہمیں پہلے دردِ سر واعظ

بزمِ رنداں میں ہو اگر شامل

پھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ

یار کو ہم نے برملا دیکھا​

 یار کو ہم نے برملا دیکھا​

آشکارا، کہیں چھپا دیکھا​

لن ترانی“ کہا، کھلا دیکھا​”

کُنتُ کنزاً“ کہا، چھپا دیکھا​

کہیں خالق ہوا، کہیں مخلوق​

کہیں بندہ، کہیں خدا دیکھا​

Friday, 2 October 2020

دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں

 دنیا میں عبادت کو تِری آئے ہوئے ہیں 

پر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں 

افسوس عبادت نہ تِری ہو سکی ہم سے 

گردن نہیں اٹھتی ہے کہ شرمائے ہوئے ہیں 

الزام نہیں طور جو سرمہ ہوا جل کر 

موسیٰ بھی تجلی سے تو شرمائے ہوئے ہیں 

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے

 کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے 

جس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہے 

عاشق ہے جو کہ جامۂ صدق و صفا میں ہے 

معشوق ہے جو پردۂ حلم و حیا میں ہے 

عالم ہے مست سجدۂ جاناں میں تا ابد 

مستی بلا کی بادۂ ”قالو بلیٰ“ میں ہے 

Thursday, 1 October 2020

نہ تو نشتر کی نہ کچھ خنجرِ خونخوار کی نوک

 نہ تو نشتر کی نہ کچھ خنجرِ خونخوار کی نوک

لے گئی سب پہ فضیلت مژۂ یار کی نوک

او کماں دار رہی کاوشِ دل تا بہ ابد

کیا بلا تھی تِرے پیکانِ دلآزار کی نوک

تھی تجھے نشترِ دلدوز کی نخوت جراح

سخت جانی نے مِری دیکھ وہ بیکار کی نوک

مائل ہے دل جو زلف گرہ گیر کی طرف

 مائل ہے دل جو زلف گرہ گیر کی طرف

دیوانے کا خیال ہے زنجیر کی طرف

سنتا نہیں زباں سے وہ قاصد کی میرا حال

کرتا نہیں خیال بھی تحریر کی طرف

ہے میرے دل کو ابروئے قاتل سے بسکہ انس

دائم مِرا خیال ہے شمشیر کی طرف

Wednesday, 30 September 2020

جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے

 جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے 

کوچۂ جاناں میں ہم ہیں، قیس بَن میں مست ہے 

تیرے کوچے میں ہے قاتل رقص گاہ عاشقاں 

کوئی غلطاں سر بکف، کوئی کفن میں مست ہے 

میکدے میں بادہ کش بتخانے میں ہیں بت پرست 

جو ہے عالم میں وہ اپنی انجمن میں مست ہے 

Tuesday, 29 September 2020

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی

 بحث کیوں ہے کافر و دیندار کی

سب ہے قدرت داورِ دوار کی

ہم صف ”قالوا بلیٰ“ میں کیا نہ تھے

کچھ نئی خواہش نہیں دیدار کی

ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار

تُو نے اب محنت مِری بے کار  کی

Sunday, 27 September 2020

ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے

 ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے

حسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہے

خوں ہے وہ جس سے کہ ہو دامن قاتل رنگیں

خون فاسد ہے جو خالی سر مژگاں میں رہے

ہم نے مصنوع سے صانع کی حقیقت پائی

بے سبب ہم نہیں نظارۂ خوباں میں رہے

دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح

 دور ہو دردِ دل یہ اور دردِ جگر کسی طرح

آج تو ہمنشیں! اسے لا مِرے گھر کسی طرح

تیر مژہ ہو یار کا،۔ اور نشانہ دل مِرا 

تیر پہ تیر تا بہ کے کیجے حذر کسی طرح

نالہ ہو، یا کہ آہ ہو،۔ شام ہو، یا پگاہ ہو

دل میں بتوں کے ہائے ہائے کیجے اثر کسی طرح