Monday, 5 October 2020

رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

 رکھا سر پر جو آیا یار کا خط

گیا سب درد سر کیا تھا دوا خط

دیا خط اور ہوں قاصد کے پیچھے

ہوا تاثیر میں کیا کہربا خط

وہیں قاصد کے منہ پر پھینک مارا

دیا قاصد نے جب جا کر مرا خط

ہے لازم حال خیریت کا لکھنا

کبھی تو بھیج او نا آشنا خط

رہا ممنون کاغذ ساز کا میں

سنا دے گا اسے سب ماجرا خط

پتا ملتا نہیں اس بے نشاں کا

لیے پھرتا ہے قاصد جا بجا خط

رہی حسرت یہ ساری عمر بہرام 

نہ مجھ کو یار نے ہرگز لکھا خط


بہرام جی

No comments:

Post a Comment