مجھے پسند ہے
نومبر کی پہلی بارش
سردی کی خبر دیتی ہوائیں
میرا کمرہ ادھوری شاعری
چائے کا ایک کپ میرا
دوسرا، ہمیشہ کی طرح تمہارا منتظر
مجھے پسند ہے
نومبر کی پہلی بارش
سردی کی خبر دیتی ہوائیں
میرا کمرہ ادھوری شاعری
چائے کا ایک کپ میرا
دوسرا، ہمیشہ کی طرح تمہارا منتظر
ایک ادھوری نظم
جی چاہتا ہے
چاہتوں کی اک کتاب لکھوں
زندگی کا نصاب لکھوں
ہر لب پہ مسکراہٹوں کا ڈیرا ہو
نفرتوں کا نہ کسی بھی دل میں بسیرا ہو
سفر میں رات ساری تھی
مگر صحرا نشینوں کے
مقدر کی زمینوں پر
شگوفے کُھل نہیں سکتے
ستارے مل نہیں سکتے
ہمیں تنہا ہی رہنا ہے
دل کی بات گر میری زبان پر آ جائے
قیامت سے پہلے ہی اک قیامت آ جائے
میری چاہت کا جو یقین دلا سکے اسے
وہ اشک اک بار میری پلکوں تک آ جائے
ساحل پہ کھڑی مدت سے ڈھونڈ رہی ہوں جسے
میرے حصے کے اس سیپ میں موتی آ جائے
اندھیری شب دِیا سا جل رہا ہے
تیرا سایہ بھی ہمراہ چل رہا ہے
سُلگتی پہر کا دُکھ شام بن کر
میری آنکھوں کے رستے ڈھل رہا ہے
میرے اندر خاموشی گونجتی ہے
بدن میرا کبھی جنگل رہا ہے