Showing posts with label مریم عرفان. Show all posts
Showing posts with label مریم عرفان. Show all posts

Monday, 26 September 2022

مجھے تم پسند ہو

 ‏مجھے پسند ہے

نومبر کی پہلی بارش

سردی کی خبر دیتی ہوائیں

میرا کمرہ ادھوری شاعری

چائے کا ایک کپ میرا

دوسرا، ہمیشہ کی طرح تمہارا منتظر

Monday, 14 March 2022

جی چاہتا ہے چاہتوں کی اک کتاب لکھوں

 ایک ادھوری نظم 


جی چاہتا ہے

چاہتوں کی اک کتاب لکھوں

زندگی کا نصاب لکھوں

ہر لب پہ مسکراہٹوں کا ڈیرا ہو

نفرتوں کا نہ کسی بھی دل میں بسیرا ہو

Saturday, 12 March 2022

ستارے مل نہیں سکتے

 سفر میں رات ساری تھی

مگر صحرا نشینوں کے

مقدر کی زمینوں پر

شگوفے کُھل نہیں سکتے

ستارے مل نہیں سکتے

ہمیں تنہا ہی رہنا ہے

Friday, 11 March 2022

دل کی بات گر میری زبان پر آ جائے

 دل کی بات گر میری زبان پر آ جائے

قیامت سے پہلے ہی اک قیامت آ جائے

میری چاہت کا جو یقین دلا سکے اسے

وہ اشک اک بار میری پلکوں تک آ جائے

ساحل پہ کھڑی مدت سے ڈھونڈ رہی ہوں جسے

میرے حصے کے اس سیپ میں موتی آ جائے

Monday, 5 April 2021

اندھیری شب دیا سا جل رہا ہے

 اندھیری شب دِیا سا جل رہا ہے

تیرا سایہ بھی ہمراہ چل رہا ہے

سُلگتی پہر کا دُکھ شام بن کر

میری آنکھوں کے رستے ڈھل رہا ہے

میرے اندر خاموشی گونجتی ہے

بدن میرا کبھی جنگل رہا ہے