Monday, 14 March 2022

جی چاہتا ہے چاہتوں کی اک کتاب لکھوں

 ایک ادھوری نظم 


جی چاہتا ہے

چاہتوں کی اک کتاب لکھوں

زندگی کا نصاب لکھوں

ہر لب پہ مسکراہٹوں کا ڈیرا ہو

نفرتوں کا نہ کسی بھی دل میں بسیرا ہو

ہر ذی نفس خوشحال ہو

کوئی چہرہ نہ پرملال ہو

ہر آنکھ خوابوں کی چمک سے جگمائے

ان خوابوں کی لمبی اڑان ہو

کہیں بھوک ہو نہ پیاس ہو

کوئی خستہ حال دکھے نہ اداس ہو

ہر دل سے دکھ درد مٹا دیں

خوشیوں کے پھول ہی پھول کھلا دیں

ہاتھوں میں ہم ہاتھ دیں

اک دوجے کا ساتھ دیں

آسانیوں کو عام کریں

اپنے کچھ لمحے محبت کے نام کریں

اپنے حصے کی شمع جلائیں

جس سے اہلِ جہاں روشنی پائیں

آؤ حسین سپنے بنیں

پھر ان میں رنگ بھریں

محبت کے، چاہت کے، الفت کے رنگ


مریم عرفان

No comments:

Post a Comment