امیدِ زیست کا سورج ابھی ڈھلا تو نہیں
چہار سمت اندھیرا کہیں ہوا تو نہیں
بقا کے دِیپ لہو سے جلائے جائیں گے
کہ قطرہ آخری اس جسم سے گِرا تو نہیں
اسے عذاب نہ سمجھیں، یہ آزمائش ہے
ہے لمحہ صبر کا، مایوس ہونے کا تو نہیں
ہمیں تو عقل سے دشمن کے ساتھ لڑنا ہے
یہ وائرس ہے، “کرونا” کوئی بلا تو نہیں
کہ “سیلف آئسولیشن” میں جان بچتی ہے
یہ زندگی کا تقاضا بہت بڑا تو نہیں
کہ وقفے وقفے سے صابن سے ہاتھ دھونے ہیں
خیال اپنا بھی رکھنا کوئی بُرا تو نہیں
خلیل مانگ مدد رب سے اس گرانی میں
کرم کرے گا کہ نائب سے وہ جدا تو نہیں
خلیل الرحمٰن خلیل
No comments:
Post a Comment