Showing posts with label مسعود جمال. Show all posts
Showing posts with label مسعود جمال. Show all posts

Saturday, 15 July 2023

جنون عشق نہ کر اضطراب کی توہین

 جنونِ عشق نہ کر اضطراب کی توہین

یہ آہِ نیم شبی ہے شباب کی توہین

جس انجمن کو بنایا تھا ہم نے رشکِ ارم

وہیں ہوئی دل خانہ خراب کی توہین

یہی تضاد تو رونق فروزِ عالم ہے

نہیں یہ تیرہ شبی آفتاب کی توہین

Tuesday, 23 May 2023

گلوں کو شعلہ مزاجی سکھائی جاتی ہے

 گلوں کو شعلہ مزاجی سکھائی جاتی ہے

چمن کی آگ چمن میں لگائی جاتی ہے

جنونِ فرقہ پرستی ارے معاذ اللہ

ہر اک قدم پہ قیامت اٹھائی جاتی ہے

وہ آگ جس نے مِرے گلستاں کو پھونک دیا

نگاہ شیخ و برہمن میں پائی جاتی ہے

Wednesday, 10 May 2023

بڑھ گیا کچھ اور دل کا اضطراب

 بڑھ گیا کچھ اور دل کا اضطراب

کیا ستم ہے اے نگاہ باریاب

بن گئی بجھتے تبسم کا شرار

وہ دم رخصت تِری چشم پر آب

اے خوشا وہ دل کہ جس کی ہر خلش

ہے مجسم کچھ سکوں کچھ اضطراب

Sunday, 29 August 2021

پھر تقاضا ہے کہ تجدید وفا ہو جائے

پھر تقاضا ہے کہ تجدیدِ وفا ہو جائے

خونِ دل نذر کرو فرض ادا ہو جائے

ہم ہیں سرشارِ محبت نہ شکایت نہ گِلہ

آپ کو عذر ہے تو عذرِ جفا ہو جائے

تشنہ لب کوئی نہ رہ جائے تِری محفل میں

جشن ہے آج تو رِندوں کا بھلا ہو جائے

Saturday, 31 July 2021

یوں ہی چپکے چپکے رونا یوں ہی دل ہی دل میں باتیں

 یوں ہی چُپکے چُپکے رونا، یوں ہی دل ہی دل میں باتیں

بڑی کشمکش کے دن ہیں، بڑی اُلجھنوں کی راتیں

ہے نفس نفس فروزاں، ہے مژہ مژہ چراغاں

بڑی دُھوم سے اُٹھی ہیں غم و درد کی باراتیں

مِرے ذہن کے خلا میں، مِرے دل کی وُسعتوں میں

کہیں رنگ و بُو کے خیمے، کہیں نُور کی قناتیں