جنونِ عشق نہ کر اضطراب کی توہین
یہ آہِ نیم شبی ہے شباب کی توہین
جس انجمن کو بنایا تھا ہم نے رشکِ ارم
وہیں ہوئی دل خانہ خراب کی توہین
یہی تضاد تو رونق فروزِ عالم ہے
نہیں یہ تیرہ شبی آفتاب کی توہین
جنونِ عشق نہ کر اضطراب کی توہین
یہ آہِ نیم شبی ہے شباب کی توہین
جس انجمن کو بنایا تھا ہم نے رشکِ ارم
وہیں ہوئی دل خانہ خراب کی توہین
یہی تضاد تو رونق فروزِ عالم ہے
نہیں یہ تیرہ شبی آفتاب کی توہین
گلوں کو شعلہ مزاجی سکھائی جاتی ہے
چمن کی آگ چمن میں لگائی جاتی ہے
جنونِ فرقہ پرستی ارے معاذ اللہ
ہر اک قدم پہ قیامت اٹھائی جاتی ہے
وہ آگ جس نے مِرے گلستاں کو پھونک دیا
نگاہ شیخ و برہمن میں پائی جاتی ہے
بڑھ گیا کچھ اور دل کا اضطراب
کیا ستم ہے اے نگاہ باریاب
بن گئی بجھتے تبسم کا شرار
وہ دم رخصت تِری چشم پر آب
اے خوشا وہ دل کہ جس کی ہر خلش
ہے مجسم کچھ سکوں کچھ اضطراب
پھر تقاضا ہے کہ تجدیدِ وفا ہو جائے
خونِ دل نذر کرو فرض ادا ہو جائے
ہم ہیں سرشارِ محبت نہ شکایت نہ گِلہ
آپ کو عذر ہے تو عذرِ جفا ہو جائے
تشنہ لب کوئی نہ رہ جائے تِری محفل میں
جشن ہے آج تو رِندوں کا بھلا ہو جائے
یوں ہی چُپکے چُپکے رونا، یوں ہی دل ہی دل میں باتیں
بڑی کشمکش کے دن ہیں، بڑی اُلجھنوں کی راتیں
ہے نفس نفس فروزاں، ہے مژہ مژہ چراغاں
بڑی دُھوم سے اُٹھی ہیں غم و درد کی باراتیں
مِرے ذہن کے خلا میں، مِرے دل کی وُسعتوں میں
کہیں رنگ و بُو کے خیمے، کہیں نُور کی قناتیں