خدا حافظ
وہ عکس تھی مست بہاروں کا
وہ رنگ تھی شوخ نظاروں کا
وہ نور تھی چاند ستاروں کا
وہ میری آنکھ کا تارا تھی
میں جان سے اس کو پیارا تھا
خدا حافظ
وہ عکس تھی مست بہاروں کا
وہ رنگ تھی شوخ نظاروں کا
وہ نور تھی چاند ستاروں کا
وہ میری آنکھ کا تارا تھی
میں جان سے اس کو پیارا تھا
اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم
اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم
اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ
تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم
ایک ساعت بھی شبِ وصل کی بھولی نہ ہمیں
آج بھی تیری ملن رات پہ مغرور ہیں ہم
طبیعت پریشاں ہے آئے کوئی
نہ زخموں پہ مرہم لگائے کوئی
رموزِ محبت سے واقف ہیں ہم
ہمیں کیوں سلیقے سِکھائے کوئی
ہیں محروم ہم گریۂ عشق سے
ہمیں ہجر دے کے رُلائے کوئی
بات اظہار تک چلی آئی
لالی رخسار تک چلی آئی
ڈھونڈتے ڈھونڈتے نظر تجھ کو
تیرے دیدار تک چلی آئی
تیرے جانے کی جب خبر پھیلی
تیرگی وار تک چلی آئی
تیرا چہرا، ترے گیسو، ترا شانہ اے کاش
پھر تِرے نقش دکھائے یہ زمانہ اے کاش
میں تو دن رات اسی سوچ میں گم رہتا ہوں
نہ سنا ہوتا وہ کوئل کا ترانہ اے کاش
کتنے مسرور تھے ہم زُلف کے سائے سائے
کھولتی یوں نہ شبِ ہجر دہانہ اے کاش