Showing posts with label آصف شہزاد. Show all posts
Showing posts with label آصف شہزاد. Show all posts

Wednesday, 21 September 2022

وہ عکس تھی مست بہاروں کا

 خدا حافظ


وہ عکس تھی مست بہاروں کا 

وہ رنگ تھی شوخ نظاروں کا 

وہ نور تھی چاند ستاروں کا  

وہ میری آنکھ کا تارا تھی 

میں جان سے اس کو پیارا تھا 

Friday, 9 September 2022

اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم

 اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم

اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم

اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ

تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم

ایک ساعت بھی شبِ وصل کی بھولی نہ ہمیں

آج بھی تیری ملن رات پہ مغرور ہیں ہم

Monday, 29 August 2022

طبیعت پریشاں ہے آئے کوئی

 طبیعت پریشاں ہے آئے کوئی

نہ زخموں پہ مرہم لگائے کوئی

رموزِ محبت سے واقف ہیں ہم

ہمیں کیوں سلیقے سِکھائے کوئی

ہیں محروم ہم گریۂ عشق سے

ہمیں ہجر دے کے رُلائے کوئی

Monday, 27 June 2022

بات اظہار تک چلی آئی

 بات اظہار تک چلی آئی

لالی رخسار تک چلی آئی

ڈھونڈتے ڈھونڈتے نظر تجھ کو

تیرے دیدار تک چلی آئی

تیرے جانے کی جب خبر پھیلی

تیرگی وار تک چلی آئی

Sunday, 1 May 2022

تیرا چہرہ ترے گیسو ترا شانہ اے کاش

 تیرا چہرا، ترے گیسو، ترا شانہ اے کاش

پھر تِرے نقش دکھائے یہ زمانہ اے کاش

میں تو دن رات اسی سوچ میں گم رہتا ہوں

نہ سنا ہوتا وہ کوئل کا ترانہ اے کاش

کتنے مسرور تھے ہم زُلف کے سائے سائے

کھولتی یوں نہ شبِ ہجر دہانہ اے کاش