کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے
اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے
مجھ پہ کھلتا ہے تِری یاد کا جب بابِ طلسم
تنگ ہو جاتا ہوں احساسِ فراوانی سے
آخر کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے
دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے
کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے
اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے
مجھ پہ کھلتا ہے تِری یاد کا جب بابِ طلسم
تنگ ہو جاتا ہوں احساسِ فراوانی سے
آخر کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے
دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے
دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں
سایوں کے انتظار میں شب بھر کھڑا ہوں میں
کیا ہو گیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مِری
کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں
پھیلا ہوا ہے سامنے صحرائے بے کنار
آنکھوں میں اپنی لے کے سمندر کھڑا ہوں میں
ذہن کی قید سے آزاد کِیا جائے اسے
جس کو پانا نہیں کیا یاد کیا جائے اسے
تنگ ہے روح کی خاطر جو یہ ویرانۂ جسم
تم کہو تو عدم آباد کِیا جائے اسے؟؟
زندگی نے جو کہیں کا نہیں رکھا مجھ کو
اب مجھے ضد ہے کہ برباد کیا جائے اسے