Showing posts with label سالم سلیم. Show all posts
Showing posts with label سالم سلیم. Show all posts

Saturday, 18 September 2021

کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے

 کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے 

اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے 

مجھ پہ کھلتا ہے تِری یاد کا جب بابِ طلسم 

تنگ ہو جاتا ہوں احساسِ فراوانی سے 

آخر  کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے 

دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے 

Saturday, 31 July 2021

دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں

 دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں

سایوں کے انتظار میں شب بھر کھڑا ہوں میں

کیا ہو گیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مِری

کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں

پھیلا ہوا ہے سامنے صحرائے بے کنار

آنکھوں میں اپنی لے کے سمندر کھڑا ہوں میں

Sunday, 21 March 2021

ذہن کی قید سے آزاد کیا جائے اسے

 ذہن کی قید سے آزاد کِیا جائے اسے

جس کو پانا نہیں کیا یاد کیا جائے اسے

تنگ ہے روح کی خاطر جو یہ ویرانۂ جسم

تم کہو تو عدم آباد کِیا جائے اسے؟؟

زندگی نے جو کہیں کا نہیں رکھا مجھ کو

اب مجھے ضد ہے کہ برباد کیا جائے اسے

Tuesday, 31 October 2017

کچھ تو ٹھہرے ہوئے دریا میں روانی کریں ہم

کچھ تو ٹھہرے ہوئے دریا میں روانی کریں ہم 
آؤ دنیا کی حقیقت کو کہانی کریں ہم 
اپنے موجود میں ملتے ہی نہیں ہیں ہم لوگ 
جو ہے معدوم اسے اپنی نشانی کریں ہم 
پہلے اک یار بنائیں کوئی اس کے جیسا 
اور پھر ایجاد کوئی دشمن جانی کریں ہم 

مرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے

مِرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے 
اب مجھے خود سے نکلنے کی اجازت دی جائے 
موت سے مل لیں کسی گوشۂ تنہائی میں 
زندگی سے جو کسی دن ہمیں فرصت دی جائے 
بے خد و خال سا اک چہرہ لیے پھرتا ہوں 
چاہتا ہوں کہ مجھے شکل و شباہت دی جائے 

Saturday, 31 December 2016

عشق کو کشف کیا حسن کا قائل ہوا میں

عشق کو کشف کیا حسن کا قائل ہوا میں 
اور پھر اپنے لیے کلمۂ باطل ہوا میں 
راس آتی نہیں اب میرے لہو کو کوئی خاک 
ایسا اس جسم کا پابندِ سلاسل ہوا میں 
سارے اسرارِ فنا کھلتے رہے صبح تلک 
رات آئینۂ ہستی کے مقابل ہوا میں 

بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارہ خواب

بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارۂ خواب
سو ہم اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں خسارۂ خواب
وہ اک چراغ مگر ہم سے دور دور جلا
ہمیں نے جس کو بنایا تھا استعارۂ خواب
چمک رہی ہے اک آواز میرے حجرے میں 
کلام کرتا ہے آنکھوں سے اک ستارۂ خواب

اثبات ذات میں ہوا انکار ہر طرف

اثباتِ ذات میں ہوا انکار ہر طرف
بس ہو رہی ہے اپنی ہی تکرار ہر طرف 
کیا حسن بک رہا ہے ہوس کی دکان میں
چڑھتی گئی ہے گرمئ بازار ہر طرف
یوں تھا کہ اک خیال نمو پا نہیں سکا 
الجھا پڑا ہے جذبۂ اظہار ہر طرف

Tuesday, 27 December 2016

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں
میں منہمک ہوں بہت خود کو لا بنانے میں 
چراغِ عشق بدن سے لگا تھا کچھ ایسا 
میں بجھ کے رہ گیا اس کو ہوا بنانے میں 
یہ دل کہ صحبتِ خوباں میں تھا خراب بہت 
سو، عمر لگ گئی اس کو ذرا بنانے میں 

بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے

بدن سمٹا ہوا اور دشتِ جاں پھیلا ہوا ہے
سو، تا حدِ نظر وہم وگماں پھیلا ہوا ہے
ہمارے پاؤں سے کوئی زمیں لپٹی ہوئی ہے
ہمارے سر پہ کوئی آسماں پھیلا ہوا ہے
یہ کیسی خامشی میرے لہو میں سرسرائی
یہ کیسا شور دل کے درمیاں پھیلا ہوا ہے

Tuesday, 8 November 2016

ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم

ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم
اک عمر اس گلی میں صدا کر چکے ہیں ہم
اپنے غزالِ دل کا نہیں مل رہا سراغ
صحرا سے شہر تک تو پتہ کر چکے ہیں ہم
اب تیشۂ نظر سے یہ دل ٹوٹتا نہیں 
اس آئینے کو سنگ نما کر چکے ہیں ہم

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے
یہ کاروبارِ دنیا بے کار چل رہا ہے
وہ جو زمیں پہ کب سے اک پاؤں پر کھڑا تھا
سنتے ہیں آسماں کے اس پار چل رہا ہے
کچھ مضمحل سا میں بھی رہتا ہوں اپنے اندر
وہ بھی بہت دنوں سے بیمار چل رہا ہے

رات آنکھوں کے دریچوں میں سجا دی گئی ہے

رات آنکھوں کے دریچوں میں سجا دی گئی ہے
یہ مجھے جاگتے رہنے کی سزا دی گئی ہے 
ایک صورت تھی مِرے عشق کا سرمایۂ کل 
اور وہ شکل تھی تیری سو بھلا دی گئی ہے 
اب کہاں جاؤں میں خوابوں کی پرستش کرنے
میرے اندر کوئی مسجد تھی جو ڈھا دی گئی ہے 

Sunday, 9 October 2016

نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتا ہے

نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتا ہے
مِرے مکاں میں وہ دیوار و در سا رہتا ہے
کبھی کبھی تو ابھرتی ہے چیخ سی کوئی
کہیں کہیں مِرے اندر کھنڈر سا رہتا ہے 
وہ آسماں ہو کہ پرچھائیں ہو کہ تیرا خیال
کوئی تو ہے جو مِرا ہم سفر سا رہتا ہے

اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے

اک نئے شہرِ خوش آثار کی بیماری ہے 
دشت میں بھی در و دیوار کی بیماری ہے
ایک ہی موت بھلا کیسے کرے اِس کا علاج 
زندگانی ہے کہ سو بار کی بیماری ہے 
بس اِسی وجہ سے قائم ہے مِری صحتِ عشق 
یہ جو مجھ کو تِرے دیدار کی بیماری ہے