کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے
یہ کاروبارِ دنیا بے کار چل رہا ہے
وہ جو زمیں پہ کب سے اک پاؤں پر کھڑا تھا
سنتے ہیں آسماں کے اس پار چل رہا ہے
کچھ مضمحل سا میں بھی رہتا ہوں اپنے اندر
شوریدگی ہماری ایسے تو کم نہ ہو گی
دیکھو وہ ہو کے کتنا تیار چل رہا ہے
تم آؤ تو کچھ اس کی مٹی اِدھر اُدھر ہو
اب تک تو دل کا رستہ ہموار چل رہا ہے
سالم سلیم
No comments:
Post a Comment