Showing posts with label عقیل نعمانی. Show all posts
Showing posts with label عقیل نعمانی. Show all posts

Friday, 30 December 2022

کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا

 کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا

دل خراب پائمال یک بہ یک نہیں ہوا

بکھر گئے تھے ٹوٹ کر مگر ہم اس کے بعد ہی

کچھ اس طرح سنبھل گئے کسی کو شک نہیں ہوا

بڑی ہی کربناک تھی وہ پہلی رات ہجر کی

دوبارہ دل میں ایسا درد آج تک نہیں ہوا

Thursday, 3 February 2022

اک تمنا میں گرفتار تھے ہم بھی تم بھی

 اک تمنا میں گرفتار تھے ہم بھی، تم بھی

ساری دنیا کے گنہ گار تھے ہم بھی تم بھی

دل کشی دیکھ کے چڑھتے ہوئے دریاؤں کی

ڈوبنے کے لیے تیار تھے ہم بھی، تم بھی

بے سبب دونوں میں ہر ایک کو دلچسپی تھی

اور ہر ایک سے بیزار تھے ہم بھی، تم بھی

Wednesday, 29 December 2021

نہ سب بے خبر ہیں نہ ہشیار سب

 نہ سب بے خبر ہیں نہ ہشیار سب

غرض کے مطابق ہیں کردار سب

دکھاوے کی ہیں ساری دلچسپیاں

حقیقت میں سب سے ہیں بیزار سب

خبر ہے کوئی چارہ گر آئے گا

سلیقے سے بیٹھے ہیں بیمار سب

Sunday, 12 December 2021

ان سے بھی کہاں میری حمایت میں ہلا سر

 ان سے بھی کہاں میری حمایت میں ہِلا سر

کہتے تھے جو ہر بات پہ حاضر ہے مِرا سر

ہاں یہ ہے کہ آہستہ کلامی کا ہوں مجرم

خاموش مزاجی تو ہے الزام سرا سر

جس روز سے آیا ہے یہ قاتل کی نظر میں

اس روز سے جھکنے کی ادا بھول گیا سر

Wednesday, 8 December 2021

اب دل کو انتظار ترے فیصلے کا ہے

 اب دل کو انتظار تِرے فیصلے کا ہے

اور تجھ میں عیب دیر تلک سوچنے کا ہے

کوئی نہیں سُنے گا بُرائی شراب کی

ہر شخص اس دیار میں عادی نشے کا ہے

اب سنگ باریوں کا عمل سرد پڑ گیا

اب اس طرف بھی رنج مِرے ٹوٹنے کا ہے

Tuesday, 7 December 2021

اس کو میرے افسانے میں کیا جانے کیا بات ملی

 اس کو میرے افسانے میں کیا جانے کیا بات ملی

چاند سے رُخ پر غم کے بادل آنکھوں میں برسات ملی

بس اتنی سی بات تھی اس کی زُلف ذرا لہرائی تھی

خوفزدہ ہر شام کا منظر، سہمی سی ہر رات ملی

دولت اور شہرت لوگوں نے قسمت سے آگے پائی

اور مصیبت بھی ہم کو تو بس حسبِ اوقات ملی

Saturday, 10 April 2021

وہ جانتا ہے اس کی دلیلوں میں دم نہیں

 وہ جانتا ہے اس کی دلیلوں میں دم نہیں

پھر بھی مباحثوں کا اسے شوق کم نہیں

پوچھو ذرا یہ کون سی دنیا سے آئے ہیں

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں کوئی غم نہیں

کس کس کے احترام میں سر کو جھکاؤں میں

میرے علاوہ کون یہاں محترم نہیں