کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا
دل خراب پائمال یک بہ یک نہیں ہوا
بکھر گئے تھے ٹوٹ کر مگر ہم اس کے بعد ہی
کچھ اس طرح سنبھل گئے کسی کو شک نہیں ہوا
بڑی ہی کربناک تھی وہ پہلی رات ہجر کی
دوبارہ دل میں ایسا درد آج تک نہیں ہوا
کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا
دل خراب پائمال یک بہ یک نہیں ہوا
بکھر گئے تھے ٹوٹ کر مگر ہم اس کے بعد ہی
کچھ اس طرح سنبھل گئے کسی کو شک نہیں ہوا
بڑی ہی کربناک تھی وہ پہلی رات ہجر کی
دوبارہ دل میں ایسا درد آج تک نہیں ہوا
اک تمنا میں گرفتار تھے ہم بھی، تم بھی
ساری دنیا کے گنہ گار تھے ہم بھی تم بھی
دل کشی دیکھ کے چڑھتے ہوئے دریاؤں کی
ڈوبنے کے لیے تیار تھے ہم بھی، تم بھی
بے سبب دونوں میں ہر ایک کو دلچسپی تھی
اور ہر ایک سے بیزار تھے ہم بھی، تم بھی
نہ سب بے خبر ہیں نہ ہشیار سب
غرض کے مطابق ہیں کردار سب
دکھاوے کی ہیں ساری دلچسپیاں
حقیقت میں سب سے ہیں بیزار سب
خبر ہے کوئی چارہ گر آئے گا
سلیقے سے بیٹھے ہیں بیمار سب
ان سے بھی کہاں میری حمایت میں ہِلا سر
کہتے تھے جو ہر بات پہ حاضر ہے مِرا سر
ہاں یہ ہے کہ آہستہ کلامی کا ہوں مجرم
خاموش مزاجی تو ہے الزام سرا سر
جس روز سے آیا ہے یہ قاتل کی نظر میں
اس روز سے جھکنے کی ادا بھول گیا سر
اب دل کو انتظار تِرے فیصلے کا ہے
اور تجھ میں عیب دیر تلک سوچنے کا ہے
کوئی نہیں سُنے گا بُرائی شراب کی
ہر شخص اس دیار میں عادی نشے کا ہے
اب سنگ باریوں کا عمل سرد پڑ گیا
اب اس طرف بھی رنج مِرے ٹوٹنے کا ہے
اس کو میرے افسانے میں کیا جانے کیا بات ملی
چاند سے رُخ پر غم کے بادل آنکھوں میں برسات ملی
بس اتنی سی بات تھی اس کی زُلف ذرا لہرائی تھی
خوفزدہ ہر شام کا منظر، سہمی سی ہر رات ملی
دولت اور شہرت لوگوں نے قسمت سے آگے پائی
اور مصیبت بھی ہم کو تو بس حسبِ اوقات ملی
وہ جانتا ہے اس کی دلیلوں میں دم نہیں
پھر بھی مباحثوں کا اسے شوق کم نہیں
پوچھو ذرا یہ کون سی دنیا سے آئے ہیں
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں کوئی غم نہیں
کس کس کے احترام میں سر کو جھکاؤں میں
میرے علاوہ کون یہاں محترم نہیں