Showing posts with label حشر کاشمیری. Show all posts
Showing posts with label حشر کاشمیری. Show all posts

Thursday, 10 November 2022

آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے

بادلو! ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے

اے دعا! ہاں عرض کر عرش الٰہی تھام کے

اے خدا! اب پھیر دے رخ گردشِ ایام کے

صلح تھی جن سے اب وہ بر سرِ پیکار ہیں

وقت اور تقدیر دونوں درپئے آزار ہیں

Sunday, 1 January 2017

گھر سے جنگل کی طرف جب تیرا دیوانہ چلا

گھر سے جنگل کی طرف جب تیرا دیوانہ چلا
ساتھ میں روتا ہوا ہر اپنا بے گانہ چلا
پاؤں کے چھالوں سے کانٹوں کی بجھائی میں نے پیاس
آج جنگل میں بھی ساقی! دورِ پیمانہ چلا
پی رہے ہیں سب نگاہوں سے محبت کی شراب
جو تِری محفل میں آیا، بھر کے پیمانہ چلا

جائیں گے وہیں خوش دل دیوانہ جہاں ہو

جائیں گے وہیں، خوش دلِ دیوانہ جہاں ہو
گھر لیں گے وہیں اب کے پری خانہ جہاں ہو
پانی کے عوض مستیٔ رنگیں ہو برستی
پر اتنے ہی ٹکڑے پہ کہ مے خانہ جہاں ہو
پھر دیکھیۓ بد مستئ ارمانِ ہوس کار
فردوسِ نظر، نرگسِ مستانہ جہاں ہو

تا کجا شورش فریاد نہ آئے لب تک

تا کجا شورشِ فریاد نہ آئے لب تک
صبر اک شے ہے مگر پھر بھی کہاں تک، کب تک
جلوہ آنکھوں کو دکھاؤ گے یہ مانا میں نے
پر یہ روتا ہے کہ آنکھیں ہی نہ ہوں گی تب تک
رحم کر دردِ جگر! جان نکل جائے گی
یوں ہی آئے گا جو کھنچ کھنچ کے کلیجا لب تک

Monday, 28 November 2016

ہاں ساقی مستانہ بھر دے مرا پیمانہ

ہاں ساقئ مستانہ بھر دے مِرا پیمانہ
گھنگھور گھٹا ہے یا اڑتا ہوا مے خانہ
ہوتی ہیں شبِ غم میں یوں دل سے مِری باتیں
جس طرح سے سمجھائے دیوانے کو دیوانہ
کیا تم نے کہا دل سے، کیا دل نے کہا تم سے
بیٹھو تو سنائیں ہم اک روز یہ افسانہ

ہو چکے شکوے شکایت پھر خدا کے سامنے

ہو چکے شکوے شکایت پھر خدا کے سامنے
تم جو آ بیٹھو گے یوں ہی سر جھکا کے سامنے
وصل کی شب آسماں تاروں کے جامِ زرنگار
چاند کی کشتی میں لایا ہے لگا کے سامنے
کر رہے تھے غیر سے میری برائی آج وہ
کیا ہی جھینپے کی جو اک 'تسلیم' جا کے سامنے

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں

Thursday, 14 April 2016

غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا

غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا
میری جانب سے تِرے دل میں غبار آ ہی گیا
جانتا تھا کھا رہا ہے بے وفا جھوٹی قسم
سادگی دیکھو کہ پھر بھی اعتبار آ ہی گیا
پوچھنے والوں سے گو میں نے چھپایا دل کا راز
پھر بھی تیرا نام لب پر ایک بار آ ہی گیا

گاہ درد و رنج و غم ہے گاہ ارماں دل میں ہے

گاہ درد و رنج و غم ہے، گاہ ارماں دل میں ہے
ایک جانِ زار سو سو طرح کی مشکل میں ہے
چٹکیاں لینا،۔ مچل جانا،۔ بگڑنا،۔ روٹھنا
ہائے اک کم سِن کی کیا کیا یاد آتی دل میں ہے
اس قدر بے درد ہے دل تیرے کوچے میں صنم
جیسے اک ٹوٹا ہوا ساغر کسی محفل میں ہے

بتا نصیب کہ ہم بے وطن کدھر جائیں

بتا نصیب! کہ ہم بے وطن کدھر جائیں
یہی زمیں ہے، یہی آسماں جدھر جائیں
کوئ بتاۓ کہ گزرے ہوۓ خوشی کے دن
کہاں ملیں گے، انہیں ڈھونڈنے اگر جائیں
جگر میں داغ، کلیجے میں زخم، سر پر خاک
شکستہ حال کہاں لے کے چشمِ تر جائیں

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی

چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی
خوشبو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی
جرأت تو دیکھئے گا نسیمِ بہار کی
یہ بھی بلائیں لینے لگی زلفِ یار کی
اللہ رکھے اس کا سلامت غرورِ حسن
آنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی

Thursday, 8 January 2015

سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

سُوئے میکدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی
وہ نگاہ سے مے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی
گو ہوائے گلستاں نے میرے دل کی لاج رکھ لی
وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی
یہ بجا کہ کلی نے کھِل کر کیا گلستان مُعطر
مگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی

Tuesday, 25 November 2014

تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سے

تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے
تم سے تو کم گِلہ ہے زیادہ نصیب سے
گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے
برباد دل کا آخری سرمایہ تھی، امید
وہ بھی تو تم نے چھین لیا مجھ غریب سے

درس خودداری

درسِ خودداری

یقین ان کی عنایت کا زینہار نہ کر
بہشت بھی جو یہ بت دیں تو اعتبار نہ کر
ہر ایک اشک تماشائے صد گلستان ہے
امیدِ عیش کو شرمندۂ بہار نہ کر
وہ مرگِ عشق کی لذت سے آشنا ہی نہیں
دعائے خضرؑ پہ آمین بار بار نہ کر