عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو! ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے
اے دعا! ہاں عرض کر عرش الٰہی تھام کے
اے خدا! اب پھیر دے رخ گردشِ ایام کے
صلح تھی جن سے اب وہ بر سرِ پیکار ہیں
وقت اور تقدیر دونوں درپئے آزار ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو! ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے
اے دعا! ہاں عرض کر عرش الٰہی تھام کے
اے خدا! اب پھیر دے رخ گردشِ ایام کے
صلح تھی جن سے اب وہ بر سرِ پیکار ہیں
وقت اور تقدیر دونوں درپئے آزار ہیں