Showing posts with label مسعود قمر. Show all posts
Showing posts with label مسعود قمر. Show all posts

Thursday, 2 November 2023

چولہے برف بنتے جا رہے ہیں

 اچھی کوالٹی کے کوئلے


دیس میں

سوئی گیس کی کمی کی بنا پہ

چولہے برف بنتے جا رہے ہیں

مٹی کے تیل کو

کسی اور فیکٹری میں کام مل گیا ہے

ملاوٹ شدہ برادہ

Friday, 13 October 2023

تم کبھی بھی کہیں بھی جا سکتی ہو

کافی کپ کے ساتھ پڑی زندگی


میں زندہ ہوں

مجھے کوئی نہیں مار سکتا

میرے مرنے کے بعد بھی

تم

کبھی بھی کہیں بھی جا سکتی ہو

گلاب جامن کے ساتھ سموسے کھانے

Saturday, 11 March 2023

تنہائی کا موٹاپا

 تنہائی کا موٹاپا


میں

تنہائی کے موٹاپے پہ

قابو پانے کے لیے

دن رات فیس بک پہ

ایکسر سائز کرتا رہتا ہوں

Wednesday, 7 September 2022

بادشاہ کے شہر میں خریداری

 بادشاہ کے شہر میں خریداری


ہمیں

خریدنے ہیں بہت سے کان

جو بہرے ہوں

اور بہت سی آنکھیں

جو اندھی ہوں

Monday, 5 September 2022

زندگی عمر بھر مجھے خرچ کرتی رہی

 دو اور پانچ کا پہاڑہ


زندگی عمر بھر مجھے خرچ کرتی رہی

لیکن میں

موت کے قرضوں سے 

اس کا حساب برابر کرتا رہا


مسعود قمر

Sunday, 4 September 2022

ماں جیسی ریاست

 ماں جیسی ریاست


دن بھر مزدور

میرے جسم پہ

سفیدی کرتا رہتا ہے

قحبہ خانے کی عورت

رات کا بوسیدہ میک اپ

Saturday, 3 September 2022

وہ گھڑی تھی جب میں نے کوزہ گری اختیار کی

 گدلے دریا کی وراثت


دیوار پہ سجے

اور پرس میں رکھے آئینے میں

چہرے ایک سے نہیں ہوتے

میں نے اس کی تلاش میں

کتنے پرس اڑائے

Thursday, 23 December 2021

اس سے پہلے پھول باسی ہو جائیں

 معلق ہوئی کھسیانی ہنسی


اس سے پہلے

پھول باسی ہو جائیں

وہ

مجھے مرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں

وہ میری میت پہ