وہ کیا چاہتے ہیں
میں نے فلسطینی بھائیوں کے لیے اخبار میں بیان دیا
انہوں نے یہ بیان میرے منہ پر دے مارا
اور کہا
ہمارے پاس اب صرف مورچے باقی بچے ہیں
عرب بھائیوں کے بیانات سے
وہ کیا چاہتے ہیں
میں نے فلسطینی بھائیوں کے لیے اخبار میں بیان دیا
انہوں نے یہ بیان میرے منہ پر دے مارا
اور کہا
ہمارے پاس اب صرف مورچے باقی بچے ہیں
عرب بھائیوں کے بیانات سے
زندگی موت کا آئینہ
جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے
ہم بزدل آدمی کی زندگی گزارتے ہیں
تو ہمیں موت بھی ویسی ہی بزدل نصیب ہوتی ہے
ہم خوبصورت زندگی جیتے ہیں
تو موت بھی خوبصورت ملتی ہے
ہم محبت کی زندگی گزارتے ہیں
ٹھہرے ہوئے موسم کی ایک نظم
کبھی منہ سے آواز ہاتھوں سے قسمت
اور آنکھوں سے پہلی مسرت کا پانی گرے
تو اسے مت اٹھانا
کبھی رات کی شال سے چاند
سالوں کی مٹھی سے خوشبو، زمینوں کی جھولی سے خوراک
چھٹی کا دن
اگر رات اور صبح میں فرق کوئی نہیں ہے
ہوا میں پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پر
بکھرنے لگے ہیں
زمینوں پہ احکام کے لمبے چابک سے
تاریخ داں اپنی گردن جھکائے ہوئے ہیں
نصیبوں کی آواز میں وقت ڈھلنے لگا ہے
دل کا پھیلاؤ
دل کا پھیلاؤ تو زمین کا پھیلاؤ ہے
گندم، پھل، شیشم اور پانی
پھر لڑکی اور ہوا میں
نغمہ دل کے پرندوں کا
ان زندوں کا جو غیر منافع بخش زمین پہ رہتے ہیں
ابھی کچھ دن لگیں گے
ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں
کسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میں
کسی کے شہر کو دریافت کرنے میں
کسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے