Showing posts with label اصغر ندیم سید. Show all posts
Showing posts with label اصغر ندیم سید. Show all posts

Monday, 12 August 2024

میں فلسطینی بھائیوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں

 وہ کیا چاہتے ہیں

میں نے فلسطینی بھائیوں کے لیے اخبار میں بیان دیا

انہوں نے یہ بیان میرے منہ پر دے مارا

اور کہا

ہمارے پاس اب صرف مورچے باقی بچے ہیں

عرب بھائیوں کے بیانات سے

Friday, 13 August 2021

جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے

 زندگی موت کا آئینہ


جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے 

ہم بزدل آدمی کی زندگی گزارتے ہیں 

تو ہمیں موت بھی ویسی ہی بزدل نصیب ہوتی ہے 

ہم خوبصورت زندگی جیتے ہیں 

تو موت بھی خوبصورت ملتی ہے 

ہم محبت کی زندگی گزارتے ہیں

Friday, 6 August 2021

اسے مت اٹھانا

 ٹھہرے ہوئے موسم کی ایک نظم


کبھی منہ سے آواز ہاتھوں سے قسمت 

اور آنکھوں سے پہلی مسرت کا پانی گرے

تو اسے مت اٹھانا

کبھی رات کی شال سے چاند 

سالوں کی مٹھی سے خوشبو، زمینوں کی جھولی سے خوراک

Thursday, 5 August 2021

کچھ دیر اپنی کمانوں کو نیچا کرو آج چھٹی کا دن ہے

 چھٹی کا دن


اگر رات اور صبح میں فرق کوئی نہیں ہے

ہوا میں پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پر

بکھرنے لگے ہیں

زمینوں پہ احکام کے لمبے چابک سے

تاریخ داں اپنی گردن جھکائے ہوئے ہیں

نصیبوں کی آواز میں وقت ڈھلنے لگا ہے

Wednesday, 4 August 2021

دل کا پھیلاؤ تو زمین کا پھیلاؤ ہے

 دل کا پھیلاؤ


دل کا پھیلاؤ تو زمین کا پھیلاؤ ہے

گندم، پھل، شیشم اور پانی

پھر لڑکی اور ہوا میں

نغمہ دل کے پرندوں کا

ان زندوں کا جو غیر منافع بخش زمین پہ رہتے ہیں

Tuesday, 3 August 2021

ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں

 ابھی کچھ دن لگیں گے


ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں

کسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میں

کسی کے شہر کو دریافت کرنے میں

کسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے