Friday, 13 August 2021

جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے

 زندگی موت کا آئینہ


جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے 

ہم بزدل آدمی کی زندگی گزارتے ہیں 

تو ہمیں موت بھی ویسی ہی بزدل نصیب ہوتی ہے 

ہم خوبصورت زندگی جیتے ہیں 

تو موت بھی خوبصورت ملتی ہے 

ہم محبت کی زندگی گزارتے ہیں

تو موت بھی محبوبہ کی طرح ہمیں ملتی ہے 

انسان نے ہر شے کو گدلا کیا ہے 

ہر قیمتی آدرش کو میلا کیا ہے 

ہر لفظ کو بے معنی کیا ہے 

اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے 

لیکن انسان موت کو گدلا نہیں کر سکا 

میلا نہیں کر سکا 

بے معنی نہیں کر سکا 

مسخ نہیں کر سکا

موت سے زیادہ خالص شے دنیا میں نہیں ہے 

اس سے زیادہ با معنی شے موجود نہیں ہے 

مگر میں کیوں ایسا کہہ رہا ہوں 

مجھے تو ایک بہت ہی خوبصورت زندگی بسر کرنی ہے 

محبت سے لبریز 

رقص کرتی ہوئی زندگی 

جس میں رقاص غائب ہو جاتا ہے 

اور صرف رقص باقی رہتا ہے 

مجھے ایک بے حد لذت بھری 

رسیلی زندگی سے گلے ملنا ہے 

تاکہ میری موت بھی خوب صورت ہو


اصغر ندیم سید

No comments:

Post a Comment